رسائی کے لنکس

انٹرنیٹ تک رسائی پر قدغن قابل مذمت ہے: اقوام متحدہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

قرارداد میں حکومتوں پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے ایسے شہریوں کی انٹرنیٹ تک رسائی کو بہتر بنائیں جو اپنی صنف یا کسی معذوری کی وجہ سے اس کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق نے پہلی مرتبہ ایسے ممالک کی مذمت کی ہے جو اپنے شہریوں کی انٹرنیٹ تک رسائی پر قدغن لگاتے ہیں۔

کونسل نے آن لائن معلومات تک رسائی پر دانستہ قدغن لگانے یا اسے محدود کرنے کے خلاف یہ کہتے ہوئے قرارداد منظور کی ہے کہ ایسے ممالک بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

قرارداد میں حکومتوں پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے ایسے شہریوں کی انٹرنیٹ تک رسائی کو بہتر بنائیں جو اپنی صنف یا کسی معذوری کی وجہ سے اس کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

قرارداد میں آن لائن اظہار رائے کی آزادی کو بھی اتنا ہی مقدم کہا ہے جتنی کہ اس کی آف لائن پاسداری ضروری ہے۔

کونسل نے ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ وابستگی کے اظہار، خلوت اور دیگر انسانی حقوق کو قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر شفاف طریقے سے یقینی بنائیں۔

گزشتہ سال انسانی حقوق کے ایک موقر گروپ "فریڈم ہاؤس" کی طرف سے جاری کردہ "فریڈم آن دی نیٹ" نامی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں ریاستیں بہت سے لوگوں کو انٹرنیٹ پر اپنے خیالات کے اظہار پر جیلوں میں بند کرتی آرہی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ حتیٰ کہ بعض جمہوری ملکوں بشمول فرانس اور آسٹریلیا، انٹرنیٹ پر لوگوں کی نگرانی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG