رسائی کے لنکس

ہیکرز کا نیا ہدف: امریکہ کے تدریسی، تحقیقی ادارے


’نیو یارک ٹائمز‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں یونیورسٹی اہل کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ہیکرز اپنی کئی ایک کوششوں میں کامیاب ہو چکے ہیں

لگتا یوں ہے کہ اِن دِنوں ہیکرز کی نظریں تحقیق کا کام کرنے والی امریکی یونیورسٹیوں پر لگی ہوئی ہیں، جنھیں سائبر حملوں کا ہدف بنایا جا رہا ہے۔ اِن میں سے زیادہ تر کا تعلق چین سے ہے، جہاں سے ایک ہفتے کے اندر ہیکنگ کی لاکھوں کوششیں کی جاتی ہیں۔

اب تک، امریکی تحقیقی یونیورسٹیاں دنیا بھر میں اطلاعات کے تبادلے کا ایک مؤثر اور کھلا پلیٹ فارم فراہم کرتی آئی ہیں۔

اخباری اطلاعات کے مطابق، یہ اعلیٰ تعلیمی ادارے اب مجبور ہو چکے ہیں کہ اپنی سکیورٹی کو مضبوط بنائیں، شفافیت کے عنصر کو محدود کرلیں اور یہ طے کرنے کی کوشش کریں آیا کیا چیزیں ہیں جو چوری ہو چکی ہیں۔

’نیو یارک ٹائمز‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں یونیورسٹی اہل کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ہیکرز اپنی کئی ایک کوششوں میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

تاہم، اُنھوں نے وضاحت سے انکار کیا ہے، ماسوائے یہ قبول کرنے کے کہ اِس چوری میں سوشل سکیورٹی کے نمبروں کا ذاتی ڈیٹا شامل ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی اہل کار یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ اکثر و بیشتر اُنھیں بہت بعد میں خبر ہوتی ہے، زیادہ تر وہ بے خبر ہی رہتے ہیں، اور اگر خبر ہو بھی جائے تو وہ کوئی تدارک کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹیوں اور اُن کے پروفیسروں کو سالانہ ہزاروں ’پیٹنٹس‘ بھیجے جاتے ہیں، جِن میں سے کچھ بڑی قدر و قیمت کے حامل ’پیٹنٹ‘ ہوتے ہیں، جن کا تعلق تجویز کردہ ادویات، کمپیوٹر چِپس، فیوئل سیلز، طیاروں اور طبی آلات سے ہوتا ہے۔

ڈاکٹر روڈنی پیٹرسن، ’ایڈیوکاز‘ پروگرام میں سائبر سکیوٹی کے سربراہ ہیں۔ یہ ادارہ نفع و نقصان کے بغیر کام کرتا ہے، جس اتحاد میں اسکول اور ٹینکالوجی کمپنیاں شامل ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اِن حملوں میں کسی خیال یا نظریے کو ہدف بنایا جانے لگا ہے، اور ہیکرز ٹیکنالوجی کے جدید حربوں کا استعمال کرتے ہیں، اس حد تک کہ، ہم اُن کا فوری جواب دینے کی سکت نہیں رکھتے۔

اُن کے بقول، اب کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ اِن حملوں کے توڑ کے لیے وسائل میسر آئیں۔ جوں جوں ہمارے تیکنیکی وسائل بڑھ رہے ہیں، ہمیں یہ بات معلوم ہو رہی ہے کہ ہیکنگ کے واقعات تیزی سے ہو رہے ہیں، جس کا ہمیں پہلے کوئی اندازہ نہیں تھا۔

ٹریسی مِترانو ’کارنیل یونیورسٹی‘ میں انفارمیشن ٹیکنالونی پالیسی کی سربراہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمیں سب سے بڑی فکر یہ لاحق ہے کہ ہیکرز کی طرف سے حملے کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے، جس کا بروقت پتا کرنا مشکل بنتا جارہا ہے۔

اپنے متعدد ہم منصبوں کی طرح، اُنھوں نے بتایا کہ یہ سائبر حملے زیادہ تر چین سے کیے جاتے ہیں، جب کہ ہیکرز کی استعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ اپنے کام کو دنیا کے دیگر حصوں تک پھیلا دیتے ہیں۔

حکام یہ نہیں بتا سکتے آیا ہیکرز ذاتی یا سرکاری سرپرستی میں یہ کام سرانجام دیتے ہیں۔ اس ضمن میں واشنگٹن میں چین کے سفارتخانےسے رابطہ کیا گیا، جس نے فوری طور پر کچھ کہنے سے احتراز کیا۔

بِل ملون کا تعلق ’یونیورسٹی آف وسکانسن‘ سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حال ہی میں اُنھوں نے جب کمپیوٹر سکیورٹی کی دیکھ بھال پر کام کیا، تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہیکنگ کی کوششیں لاتعداد ہیں۔

ملون نے بتایا کہ ہر روز چین سے کی طرف سے 90000سے 100000ہیکنگ کی رپورٹیں موصول ہوتی ہیں، جِن میں ہمارے سسٹم میں داخل ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پھر بہت سی کوششیں روس کی جانب سے بھی ہوتی ہیں، اور حال ہی میں پتا چلا ہے کہ ویتنام بھی اس دوڑ میں شامل ہے، لیکن اِس میں، چین پیش پیش ہے۔
XS
SM
MD
LG