رسائی کے لنکس

برطانوی جامعات میں انتہا پسند رجحانات میں اضافے کا جائزہ

  • ہنری رجول

برطانوی جامعات میں انتہا پسند رجحانات میں اضافے کا جائزہ

برطانوی جامعات میں انتہا پسند رجحانات میں اضافے کا جائزہ

سکیورٹی کے ایک تجزیاتی گروپ کا کہنا ہے کہ اسے ایسے شواہد ملے ہیں کہ لندن کی ایک یونیورسٹی میں اسلامی انتہا پسندی پروان چڑھ رہی ہے ۔

نیا تعلیمی سال حال ہی میں شروع ہوا ہے اور لندن کی سٹی یونیورسٹی میں طالب علموں کا ہجوم ہے۔ سٹی یونیورسٹی کا شمار لندن کے انتہائی وقیع تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے ۔ دنیا بھر کے ملکوں سے طالب علم یہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ لیکن ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی سنّی اسلامک سوسائٹی کے بعض ارکان اسلام کی جو توجیہ کرتے ہیں وہ انتہا پسندی پر مبنی ہے۔ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ گروپ یونیورسٹی میں دوسرے مسلمانوں کو انتہا پسندی کی راہ پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے ۔

اس رپورٹ کی بنیاد جزوی طور پر جمعے کے بعض خطبوں کی آڈیو ریکارڈنگز ہیں ۔ مثلاً یہ اقتباس سنّی اسلامک سوسائٹی کے صدر صالح پٹیل کے خطبے سے ہے’جب وہ ہم سے یہ کہتے ہیں کہ اسلامی ریاست میں ہم سے کہا جاتا ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دینا چاہیئے، تو ہاں یہ صحیح ہے ! اور بدکاری کرنے والوں کے لیے سنگساری کی سزا کے لیے بھی کہا گیا ہے ۔ جب وہ ہم سے کہتے ہیں کہ اسلامی ریاست میں مرتد کو قتل کر دینا چاہیئے ، تو ہاں یہ صحیح ہے ۔ کیوں اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں یہی سکھایا ہے۔‘

Quilliam Foundation کی تجزیہ کارلوسی جیمز جنھوں نے اس تحقیق پر کام کیا ہے، کہتی ہیں کہ سوسائٹی کے بعض ارکان تشدد کی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔’’ان لوگوں میں رواداری کی کمی تھی اور ان کے خیالات میں اسلام کی پُر تشدد شکل کی جھلک نظر آتی تھی۔ مثلاً یہ کہنا کہ جو لوگ پانچ وقت نماز نہیں پڑھتے وہ واجب القتل ہیں اور ایسے عالموں کو کیمپس پر مدعو کرنا جن کے خیال میں ہم جنس پرستوں کو پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھینک دینا چاہیئے۔ یہ وہابی ازم کی انتہا پسندانہ شکل ہے جس میں اسلام ازم کے بعض سیاسی خیالات کو خلط ملط کر دیا گیا ہے۔‘‘

Quilliam Foundation نے تحقیق کے دوران سنی اسلامک فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ پر ایسے مضامین اور تصویریں بھی دریافت کیں جن میں شیعہ مسلمانوں پر تنقید کی گئی تھی۔

سٹی یونیورسٹی کی اسلامک سوسائٹی سے انٹرویو کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں انتہا پسندی کا مسئلہ اس وقت سامنے آیا جب گذشتہ سال کرسمس کے دن ایک خود کش بمبار نے ڈیٹرائٹ جانے والے ہوائی جہاز کو تباہ کرنے کی ناکام کوشش کی۔ مبینہ بمبار عمر فاروق عبدالمطلب نائجیریا کا شہری ہے اور اس نے 2005 سے تین سال لندن کے یونیورسٹی کالج میں صرف کیے تھے ۔ اپنی تعلیم کے دوسرے سال میں، وہ اسلامک سوسائٹی کا صدر منتخب ہوا تھا۔ بعد میں وہ یمن چلا گیا اور خیال ہے کہ وہاں اس نے القاعدہ کے کارندوں کی مدد سے اس خود کش حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

یونیورسٹی نے یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کیا عبد المطلب میں انتہا پسندی کے جذبات یونیورسٹی کالج کے زمانے میں پیدا ہوئے تھے ، حال ہی میں اپنی تفتیش مکمل کی ہے۔ پروفیسر Anthony Finkelstein کہتے ہیں کہ تمام دستیاب شہادتوں سے پتہ چلا ہے کہ ایسا نہیں تھا۔ اس کے بارے میں لوگوں کو جو بات واضح طور پر یاد ہے وہ یہ ہے کہ اس میں کوئی بات عام طالب علموں سے مختلف نہیں تھی۔ وہ دل لگا کر پڑھتا تھا اور اس نے اپنی تعلیم اطمینان بخش طریقے سے مکمل کی تھی۔

پروفیسر Finkelstein کہتے ہیں کہ طالب علموں کو اپنے خیالات کے بارے میں بحث و تمحیص کی آزادی دینا ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیئے نفرت کا پرچار کرنے والوں کو کیمپس سے دور رکھا جائے ۔

فیڈریشن آف اسٹوڈنٹ اسلامک سوسائیٹیز کے ایکزیکٹو رکن، رشید انصاری اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ انتہا پسند اس قسم کی سوسائیٹیوں کو ہائی جیک کر سکتے ہیں۔ ’’کیمپس پر اسلامک سوسائیٹیاں شاید سب سے زیادہ جمہوری ہیں۔ وہ بالکل کھلی کتاب کی طرح ہیں اور کیمپس پر سب سے زیادہ جانچ پڑتال بھی ان ہی کی ہوتی ہے کیوں کہ ان کے بارے میں جعلی تھنک ٹینکس اور دائیں بازو کا میڈیا، انتہا پسندی اور شدت پسندی کی ہولناک باتیں کرتا رہتا ہے۔ ان کی ہر وقت نگرانی ہوتی رہتی ہے اور جو کچھ ہوتا ہے، وہ ہر ایک کے سامنے ہوتا ہے ۔‘‘

یونیورسٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ طالب علموں کی ہر سرگرمی کی نگرانی نہیں کر سکتے اور نہ انہیں ایسا کرنا چاہیئے۔ لیکن انہیں اکثر یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ وہ انتہا پسندی کے نظریات کو روکنے اور آزادیٔ تقریر کو فروغ دینے کے درمیان توازن کس طرح قائم کریں۔

XS
SM
MD
LG