رسائی کے لنکس

تنہا زندگی گزارنے والی عظیم گلوکارائیں


تنہا زندگی گزارنے والی عظیم گلوکارائیں

تنہا زندگی گزارنے والی عظیم گلوکارائیں

پاکستان اور بھارت کی فلمی موسیقی خواتین پلے بیک سنگرز یا گلوکاراوٴں کے ذکر کے بغیر کبھی مکمل نہیں ہوسکتی۔ زہرہ بائی انبالے والی، خورشید بیگم، امیر بائی کرناٹکی، مبارک بیگم، اختری بائی، آشا بھونسلے، نورجہاں، شمشاد بیگم، ثریا، رینوکا دیوی، راجکماری اور پارول گھوش سمیت بے شمار نام ایسے ہیں جو موسیقی کی دنیا کی انمٹ پہچان ہیں ۔ ان تمام خواتین گلوکاراوٴں کے گائے ہوئے بے شمار گانے ایسے ہیں جن کی چمک آج تک ماند نہیں پڑی۔

ثریا سے شریا گھوشال تک کے اس سفر میں بھارت سے بلبلِ ہند لتا منگیشکر، سلکھشنا پنڈت جبکہ پاکستان سے مہناز کے نام اس لحاظ سے انتہائی منفرد نظر آتے ہیں کہ ان گلوکاراؤں نے اب تک شادی نہیں کی ۔

یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ شادی شدہ گلوکاراؤں کی آوازوں میں وقت کے ساتھ اس قدر تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں کہ ان کی آج کی آواز اپنی ہی ابتدائی آواز سے قطعی طور پر مختلف ہو گئی ہے لیکن ثریا کی آواز ان کے آخری گیتوں تک اپنی بھرپور شناخت رکھتی تھی۔ اسی طرح فلم” محل“ میں گایا ہوا لتا منگیشکر کا پہلا فلمی گیت ”آئے گا، آئے گا“ ہو یا ان کی گائیکی کے آخری دور میں فلم ”دل تو پاگل ہے‘ ‘کا ٹائیٹل گیت ، لتا منگیشکر کی آواز کہیں بھی اپنے سامع پر اثرانداز ہوئے بغیر نہیں گزری۔

گیت ”دل تو پاگل ہے، دل دیوانہ ہے“ کی خاص بات یہ ہے کہ جہاں اس گیت کو گانے والی لتا منگیشکر اپنی ستر کی دہائی میں ہوتے ہوئے بھی کنواری ہیں ۔۔۔ آئیے نظر ڈالتے ہیں پاکستان اور بھارت کی چند غیر شادی شدہ گلوکاراؤں کی زندگیوں پر:

ثریا
غیر شادی شدہ گلوکاراؤں میں ثریا کا نام سر فہرست ہے۔ ان کا پورا نام ثریا جمال شیخ تھا لیکن وہ ثریا کے نام سے ہی مشہور تھیں۔ انہوں نے 1940 اور 1950 کی دہائیوں میں اداکارہ اور پلے بیک سنگر کے طور پربھی بڑا نام کمایا۔ ثریا کے گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ثریانے 1948 ء سے 1951ء تک چھ فلموں میں دیو آنند کے ساتھ کام کیا۔ 1948ء میں فلم ”ودیا“ کے گیت ’کنارے کنارے چلے جائیں گے“ کی شوٹنگ کے دوران کشتی الٹ گئی لیکن دیو آنند نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ثریا کو بچالیا اور یہیں سے ثریا دیو آنند کو پسند کرنے لگی۔

ثریا کی محبت کا جواب دیو آنند نے بھی محبت سے دیا۔ دیو آنند نے باقاعدہ ثریا کا ہاتھ مانگا اور اس کے لیے تین ہزار روپے کی ہیرے کی انگوٹھی بھی بھیجی، لیکن ثریا کی نانی نے مذہب کی وجہ سے اس رشتے کی مخالفت کردی۔ اس رشتے سے انکار کے بعد 1951ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’دو ستارے‘ آخری فلم تھی جس میں ان دونوں نے ایک ساتھ کام کیا ۔ ثریا کی کامیاب فلموں میں ”مرزا غالب“، ”دل لگی“ اور” انمول گھڑی“ سمیت بہت سی فلمیں شامل ہیں۔

لتا منگیشکر
لتا منگیشکر دنیا بھر میں مقبول گلوکارہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انھیں سب سے زیادہ گیت ریکارڈ کرانے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ لتا جی نے بھی ایک طویل زندگی گزارنے کے باوجود شادی نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پہلی اور آخری محبت موسیقی ہے اور اب یہ سمجھا جائے کہ ان کی شادی موسیقی سے ہو چکی ہے۔ ایک اور اعزاز جوانہیں حاصل ہے، وہ یہ ہے کہ انھوں نے بھارت بھر کے فلمی حلقے پر اپنی شخصیت اور مزاج سے انتہائی مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ لتا جی نے کم و بیش پچاس ہزار گیت گا ئے ہیں ۔

سلکھشنا پنڈت
سلکھشنا پنڈت بھارت کی وہ خوش قسمت ترین گلوکارہ ہیں جنہوں نے فلمی دنیا میں گلوکارہ کی حیثیت سے بچپن میں قدم رکھا اور اپنا پہلا گیت لتا منگیشکر کے ساتھ گایا۔ 1967ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’تقدیر‘کے لیے گایا جانے والا یہ گیت ’سات سمندر پار سے‘ اس قدر مقبول ہوا کہ ایوارڈز کی لائن لگ گئی۔ سلکھشنا نے 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔

اپنے گیارہ سالہ گلوکاری کے دور میں سلکھشنا پنڈت نے بے شمار ایوارڈز حاصل کیے۔ ایک بار اپنے ایک انٹر ویومیں سلکھشنا نے کہا تھا کہ ان کے گیارہ سالہ سنگنگ کیریئر میں انتہائی کم گیتوں کا مطلب ان کی ناکامی نہیں ہے، بلکہ ایسا اس لیے ہے کہ وہ گانے کے بول، فلم میں گانے کی سچویشن، کمپوزیشن اور دیگر باتوں پر غور کر نے کے بعد اس بات کا فیصلہ کرتی ہیں کہ وہ گائیں گی یا نہیں۔

ماضی میں معروف پاکستانی گلوکار پرویز مہدی کے ساتھ سلکھشنا پنڈت کی ایک سی ڈی بھی ریلیز ہوچکی ہے، جس نے کافی مقبولیت حاصل کی تھی۔

XS
SM
MD
LG