رسائی کے لنکس

چین میں انسانی حقوق کے ریکارڈ سے متعلق غیر معمولی مشترکہ بیان


جنیوا میں قائم انسانی حقوق کونسل

جنیوا میں قائم انسانی حقوق کونسل

مشترکہ بیان میں حالیہ دنوں میں ہونے والی پراسرار گمشدگیوں اور چینی اور غیر ملکی شہریوں کی زبردستی چین واپسی کو ’’ناقابل قبول‘‘ غیرعلاقائی اقدامات کہا گیا۔

امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے جنیوا میں ہونے والے اجلاس کے دوران ایک غیر معمولی بیان جاری کیا ہے جس میں چین کے ’’انسانی حقوق کے مشتبہ ریکارڈ‘‘ پر تنقید کی گئی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ مشترکہ بیان ’’انسانی حقوق کونسل کے 2007 میں اجرا کے بعد چین کے خلاف کیا جانے والا پہلا اجتماعی قدم ہے۔‘‘

چینی سفارتکار فو کونگ نے امریکی قیادت میں کی جانے والی تنقید کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے جواب میں امریکہ پر شہریوں کے خلاف جرائم کا الزام عائد کیا جن میں ’’جنسی زیادتی اور قتل‘‘ شامل ہیں۔

فو نے کونسل کو بتایا کہ ’’امریکہ گوانتانامو میں زیر حراست افراد سے بدسلوکی کے لیے بدنام ہے، (امریکہ میں) آتشین اسلحے سے تشدد عام ہے اور نسل پرستی کی جڑی گہری ہیں۔‘‘

محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے جمعرات کو روزانہ بریفنگ کے دوران کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان انسانی حقوق کے معاملات پر اختلاف ان کے مجموعی تعاون پر اثرانداز نہیں ہو گا۔

’’ہم کسی طور بھی غلطیوں سے پاک نہیں۔ (انسانی حقوق) ہماری خارجہ پالیسی کے ایجنڈے کا اہم حصہ ہے اور ہم اس پر بات کرتے رہیں گے ناصرف چین سے بلکہ کئی دیگر ممالک سے بھی۔‘‘

مشترکہ بیان میں حالیہ دنوں میں ہونے والی پراسرار گمشدگیوں اور چینی اور غیر ملکی شہریوں کی زبردستی چین واپسی کو ’’ناقابل قبول‘‘ غیرعلاقائی اقدام کہا گیا جس میں ’’عالمی دستور کے اصولوں کی خلاف ورزی‘‘ کی گئی۔

گزشتہ اکتوبر کے بعد سے اب تک ہانگ کانگ کے پانچ کتب فروش لاپتا ہو چکے ہیں جن میں ایک ناشر گوئی منہائی بھی شامل ہے۔

خیال ہے کہ انہیں ایسا مواد فروخت کرنے پر بیجنگ نے اغوا کر کے تحویل میں لے رکھا ہے جو چین کی سرزمین پر ممنوع ہے۔

مشترکہ بیان میں اس بات پر بھی تشویش کا ظاہر کیا ہے کہ فرد جرم عائد کیے جانے یا قانونی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ’’بڑھتی ہوئی تعداد میں لوگوں کے اعترافی بیانات سرکاری میڈیا پر نشر کیے گئے۔‘‘

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی چین کی ڈائریکٹر صوفی رچرڈسن نے مشترکہ بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس میں غیرمعمولی اور جرات مندانہ مؤقف اختیار کیا گیا۔

امریکہ، آئرلینڈ، برطانیہ، آسٹریلیا، جرمنی، ہالینڈ، جاپان، ناروے، آئس لینڈ، ڈنمارک اور فن لینڈ نے مشترکہ بیان کی توثیق کی۔

XS
SM
MD
LG