رسائی کے لنکس

بلدیاتی نظام کے خلاف سندھ اسمبلی میں ہنگامہ آرائی


فائل

فائل

ہنگامہ آرائی کے دوران میں حکومت کی اہم اتحادی ایم کیو ایم کے ارکان ایوان کی کاروائی سے لاتعلق بیٹھے رہے اور انہوں نے حزبِ اختلاف کی تنقید اور پیپلز پارٹی کے جوابی حملوں میں کوئی حصہ نہیں لیا۔

سندھ اسمبلی کے جمعرات کو ہونےو الے اجلاس میں صوبے میں نئے بلدیاتی نظام کے خلاف شدید ہنگامہ آرائی ہوئی ہے جب کہ حزبِ اختلاف نے نئے نظام کو صوبے سے "غداری" قرار دیا ہے۔

جمعرات کو صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر نثار کھوڑو نے اعلان کیا کہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ 'سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ بل 2012ء' پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد اسے قانون کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔

اس اعلان پر اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور نعرے بازی شروع کردی۔حزبِ اختلاف کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں جس پر ان کی وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔

ہنگامہ آرائی کے دوران میں خطاب کرتے ہوئے اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف جام مدد علی نے کہا کہ "اندھے قانون" اور "غداری" کے خلاف احتجاج کرنا ان کا حق ہے۔

قائدِ حزبِ اختلاف کے ان ریمارکس پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ وزیرِ بلدیات آغا سراج درانی نے کہا کہ انہیں غدار کہنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔

حزبِ اختلاف کے ارکان کے مسلسل احتجاج کے باعث پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے کئی وزرا بھی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر چیخ و پکار کرتے رہے۔ اس موقع پر ارکان کے درمیان نازیبا جملوں کا تبادلہ بھی ہوا جب کہ کئی اراکین نے ایک دوسرے کو دھمکیاں بھی دیں۔

حزبِ اختلاف کے ارکان 'سندھ کی تقسیم نامنظور' کے نعرے لگاتے رہے جن کا جواب حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے ارکان 'جئے بھٹو' اور 'جئے سندھ' سے دیتے رہے۔

تاہم اس ہنگامہ آرائی کے دوران میں سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندگی کرنے والی حکومت کی اہم اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے ارکان ایوان کی کاروائی سے لاتعلق بیٹھے رہے اور انہوں نے حزبِ اختلاف کی تنقید اور پیپلز پارٹی کے جوابی حملوں میں کوئی حصہ نہیں لیا۔

واضح رہے کہ صوبے میں نئے بلدیاتی نظام کا قانون پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے اتفاقِ رائے سے ستمبر میں آرڈی ننس کی صورت میں جاری کیا گیا تھا جس کے بعد حزبِ اختلاف کے شدید احتجاج کے باوجود صوبائی اسمبلی نے اس بل کی منظوری دیدی تھی۔

آرڈیننس کے اجرا کے فوری بعد ہی حکمران اتحاد میں اختلافات سامنے آنے لگے تھے اور صوبائی حکومت کی دیگر اتحادی جماعتوں مسلم لیگ (فنکشنل)، مسلم لیگ (قائدِ اعظم)، نیشنل پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے وزرا کابینہ سےمستعفی ہوگئے تھے۔

جمعرات کو اسمبلی کے اجلاس کے آغاز پر حکومت کا ساتھ چھوڑ جانے والی ان چاروں جماعتوں کے ارکان نے اپوزیشن بینچوں پر نشستیں الاٹ نہ کیے جانے پر بطورِ احتجاج اجلاس سے واک آئوٹ کیا۔ بعد ازاں اسپیکر سندھ اسمبلی کی جناب سے ارکان کو حزبِ اختلاف کی بینچوں پر نشستیں دیے جانے کے اعلان کے بعد ارکان اپنے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھے ایوان میں واپس آگئے۔

واضح رہے کہ نئے بلدیاتی نظام کے تحت کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، خیر پور اور لاڑکانہ کو میٹروپولیٹن کارپوریشنز کا درجہ دیا گیا ہے جس کا سربراہ مئیر کہلائے گا جب کہ صوبے کے باقی اضلاع میں ضلعی کونسل کا انتخاب کیا جائے گا جس کے سربراہ کو چیئرمین ’ضلع کونسل‘ کا نام دیا گیا ہے۔

صوبے کی قوم پرست جماعتیں بھی نئے بلدیاتی نظام کی سخت مخالفت کر رہی ہیں اور انہوں نے اسے سندھ کی شہری اور دیہی علاقوں میں تقسیم کی سازش قرار دیا ہے۔ قوم پرستوں کی جانب سے نئے بلدیاتی نظام کے خلاف صوبے بھر میں احتجاجی مظاہروں، دھرنوں، اور شاہراہوں کی بندش کا سلسلہ جاری ہے۔
XS
SM
MD
LG