رسائی کے لنکس

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ 25 منٹ کے اندر چار بم دھماکے میدوگری شہر کے پر ہجوم حصوں میں ہوئے جن کا نشانہ ایک مسجد، ایک مارکیٹ اور کھیل کا ایک مرکز تھا جہاں لوگ فٹ بال کا میچ دیکھ رہے تھے۔

نائیجیریا کے شمالی شہر میدوگری میں ہونے والے پے در پے بم دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد کم از کم ایک سو تک پہنچ گئی ہے۔

اس شبہ کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ بم دھماکے شدت پسند تنظیم بوکوحرام کے عسکریت پسندوں نے کیے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اتوار کو دیر گئے 25 منٹ کے اندر چار بم دھماکے میدوگری شہر کے پر ہجوم حصوں میں ہوئے جن کا نشانہ ایک مسجد، ایک مارکیٹ اور کھیلوں کا ایک مرکز شامل ہے جہاں لوگ فٹ بال کا میچ دیکھ رہے تھے۔

فوجی حکام نے وائس آف امریکہ کی 'ہوسا سروس' کو بتایا کہ ان واقعات میں 90 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 54 ہے تاہم دوسرے عہدیدار اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ بم دھماکے تھے جبکہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسجد میں ہونے والا دھماکا ایک خود کش بمبار نے کیا ہو گا۔

بتایا جاتا ہے کہ تاحال کسی بھی تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم بوکو حرام اس سے قبل بھی اکثر اس نوعیت کے کئی حملے کر چکی ہے جن میں مارکیٹوں، مسجدوں اور دوسرے مقامات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ادھر شدت پسند تنظیم بوکوحرام کے رہنما ابو بکر شکاؤ نے حکومت کے اس بیان کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ بوکوحرام کو تین ماہ کے اندر کچل دیں گے۔

شکاؤ نے ایک آڈیو پیغام میں اپنی ہلاکت کے حکومتی دعوے کو بھی مسترد کیا ہے۔ اس کے ساتھ اس نے بوکوحرام کی طرف سے شدت پسند تنظیم داعش کی حمایت کا بھی اعلان کیا۔

بوکوحرام کی کارروائیوں میں 2009ء سے لے کر اب تک نائیجیریا میں 10,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG