رسائی کے لنکس

جامعہ عثمانیہ : قیام کے 90 سال مکمل: اردو ذریعہٴ تعلیم سے آغاز لیکن آج....

  • رشیدالدین

جامعہ عثمانیہ

جامعہ عثمانیہ

آصف جاہی خاندان کے آخری حکمراں میر عثمان علی خاں آصف سابع کے دور میں ریاست حیدرآباد نے زبردست ترقی کی۔

اِس عہد میں تمام شعبہ ہائے حیات میں ترقی کی رفتار دیگر آصف جاہوں کے ادوار کی بہ نسبت بہت تیز تھی۔ یوں تو آصف سابع نے زندگی کے ہر شعبہ کو ترقی دینے کی کوشش کی لیکن تعلیم کے فروغ اور اشاعت میں انہوں نے غیر معمولی دلچسپی لی۔

ان کی توجہہ سے ریاست کے مدارس اور کالجوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ چوں کہ ریاست میں کوئی جامعہ موجود نہیں تھی اس لئے یہاں کے طلباء کو اعلیٰ تعلیم کیلئے دوسری جامعات کا رخ کرناپڑتا تھا۔ اس کمی اور ضرورت کو جامعہ عثمانیہ کے قیام کے ذریعہ پورا کیا گیا۔ میر عثمان علی خاں آصف سابع نے اپنے فرمان مورخہ 26 اپریل 1917ء کو ذریعہ جامعہ عثمانیہ کے قیام کے احکام صادر کئے۔ اسی فرمان کے ذریعہ اردو زبان کو ذریعہ تعلیم قرار دیا گیا۔ جامعہ عثمانیہ اور دارالترجمہ کے قیام کی وجہہ سے ریاست میں نہ صرف ایک تعلیمی انقلاب رونما ہوا بلکہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی ایک انقلاب آیا۔

اردو زریعہ تعلیم کے نام پر قائم کی گئی یہ جامع 1948ء میں سقوط حیدرآباد کے بعد حکمرانوں کی اردو دشمن پالیسی کا شکار ہوگئی اور ذریعہ تعلیم اردو سے انگریزی کردیا گیا۔ اس طرح آصف سابع کا اردو ذریعہ تعلیم کی یونیورسٹی کا خواب دیرپا ثابت نہ ہوسکا۔

آصف جاہوں نے اپنی ریاست میں علم کی روشنی پھیلانے اور عوام کی اخلاقی اور ذہنی تربیت کیلئے خاطر خواہ انتظامات کئے تھے۔ اس سلسلے میں علماء کو یہاں اکٹھا کیا گیا تھا اوردرسگاہیں قائم کی گئی تھیں۔ آصف جاہی دور کے آغاز ہی سے اورنگ آباد اور حیدرآباد کو بڑے علمی مراکز کی حیثیت حاصل تھی۔ یہاں عالموں اور باکمالوں کی بڑی تعداد موجود رہا کرتی تھی جن کی آصف جاہوں کی جانب سے قدر افزائی کی جاتی تھی۔

ابتدائی زمانے میں مسجدوں اور خانقاہوں میں درس گاہیں قائم تھیں۔ ایسی درس گاہیں ریاست میں بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ ان درس گاہوں کے لئے وقف موجود تھے۔ بعض علماء نے علم کی ترویج و اشاعت کی غرض سے ذاتی طور پر درس گاہیں قائم کی تھیں اور بعض امراء خانگی درس گاہوں کی سرپرستی اور مدد کیا کرتے تھے۔ ان درسگاہوں کے علاوہ چند سرکاری مدرسے بھی تھے جن کے اخراجات حکومت کی جانب سے ادا کئے جاتے تھے۔

1907ءسے 1917ء تک محکمہ تعلیمات کی کارروائیوں کا جائزہ لیں تو جامعہ عثمانیہ کے قیام کے لئے سرکاری سطح پر کی گئی مساعی کا انکشاف ہوتا ہے۔ 1907ء سے ہی حیدرآباد کیلئے ایک علحدہ جامعہ کے قیام کی تحریک کو تقویت حاصل ہوئی۔ اور علمی حلقوں میں اس موضوع پر مباحث ہونے لگے۔

1907ء تک ریاست میں اورینٹل تعلیم کا سکہ چلتا تھا۔ خاص طور سے مسلمان اسی قدیم نصاب کے مطابق تعلیم حاصل کرتے تھے۔ معین المقام تعلیمات فخر الملک نے ریاست کیلئے علحدہ جامعہ کے قیام کی متعدد بار تحریک کی لیکن تعلیمات کے عہدہداروں اور خصوصاً محکمہ کے ناظم سے انہیں کوئی تعاون حاصل نہیں ہوا۔ 1912ء میں جب اکبر حیدری معتمد تعلیمات مقرر ہوئے تو انہوں نے قیام جامعہ کو ممکن بنانے کیلئے زمین ہموار کرنی شروع کی۔

وقت کے ساتھ ساتھ اورینٹل نصاب بھی اپنی افادیت کھو چکا تھا۔ علوم شرقیہ کی جامعہ کا خیال بھی ازکار رفتہ ہوگیا تھا۔ ایسے حالات میں اکبر حیدری نے جامعہ کے قیام کی نسبت غور کیا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ سب سے پہلے ریاست کی تعلیمی بنیادوں کو تبدیل کرکے اسے سرکاری زبان یعنی اردو کے کردار سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ گویا اعلیٰ تعلیم کی جامعہ کی تشکیل کے مرحلہ پر بنیادی تعلیم کی صورت حال ہی سوالیہ علامت بنی ہوئی تھی لیکن اکبرحیدری نے اس کا بڑے صبر و استقلال اور تدبر کے ساتھ مقابلہ کیا۔

آصف جاہ سابع نواب میر عثمان علی خاں کی 1911ء میں تخت نشینی عمل میں آئی۔ جس کے ساتھ ہی ریاست کے تمام شعبہ جات میں اصلاحی اقدامات کی ایک تازہ لہر چلی۔ اس ماحول سے فائدہ اٹھا کر اکبر حیدری معتمد تعلیمات نے ریاست کے تعلیمی ڈھانچہ میں بہ عجلت ممکنہ تبدیلیاں لائیں۔ رشد یہ اورینٹل کورس کو اردو مڈل اسکول میں بدل دینے سے اردو مدارس کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا تھا۔ نصاب سے فارسی کا بوجھ کم کرکے نیچرل سائنس اور حساب اردو میں پڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ عربی کی اعلی جماعتوں سے اس زبان کی بعض نصابی کتابیں خارج کردی گئیں۔ نیز عربی میں پڑھانے کے سلسلے کو بھی موقوف کردیا گیا۔ اورینٹل نصاب کو سیکولر رنگ دیا گیا جس کے نتیجہ میں اردو ذریعہ تعلیم کی جماعتوں میں غیر مسلم بچوں کی تعداد بڑھ گئی اور دیہات میں بھی اردو مدارس کے قیام کیلئے آئے دن نمائندگیاں ہونے لگیں۔

چنانچہ ایک ایسی جامعہ کے قیام کی اجازت مانگی گئی جس کا ذریعہ تعلیم اردو ہو اور جہاں انگریزی بہ حیثیت لازمی زبان پڑھائی جائے۔ ذریعہ تعلیم کی حیثیت سے اردو زبان کے انتخاب کے لئے دلائل یہ پیش کئے گئے کہ اردو ہندوستان کی مقبول ترین زبان اور ریاست حیدرآباد کی سرکاری زبان ہے۔ آبادی کی اکثریت یہ زبان بولتی اور سمجھتی ہے۔ نیز آریائی زبان کی حیثیت سے ہندوستان کی دوسری زبانوں سے اس کا راست تعلق ہے۔ نواب میر عثمان علی خاں نے اس تجویز کو معقولیت اور اہمیت کے پیش نظر جامعہ کے قیام کی منظور عطا کرتے ہوئے دو ہی دن میں یعنی 26 اپریل 1917ء کو فرمان جاری کیا۔

’’اس یونیورسٹی کا اصول یہ ہونا چاہئے کہ اعلیٰ تعلیم کا ذریعہ ہماری زبان اردو قرار دی جائے اور انگریزی زبان کی تعلیم بھی بہ حیثیت ایک زبان کے ہر طالب علم پر لازم گردانی جائے۔ لہٰذا میں خوشی کے ساتھ اجازت دیتا ہوں کہ میری تخت نشینی کی یادگار میں حسب مذکور اصول محولہ عرضداشت کے موافق، ممالک محروسہ کیلئے حیدرآباد میں یونیورسٹی قائم کرنے کی کارروائی شروع کی جائے اس یونیورسٹی کا نام عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد ہوگا‘‘۔
نواب میر عثمان علی خاں کی اجازت حاصل ہوجانے کے بعد سر اکبر حیدری نے برطانیہ اور ہندوستان کے نامور ماہرین تعلیم کو مجوزہ یونیورسٹی کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور ان کا مشورہ طلب کیا۔ ان کی اکثریت نے کامل اعتماد کے ساتھ اردو ذریعہ تعلیم کی مجوزہ جامعہ سے نیک توقعات وابستہ کیں۔ بعض نے اس عظیم تجربہ کی صورت گری اور نتائج سے دلچسپی کا اظہار کیا جب کہ دو ایک حضرات کا خیال تھا کہ بحیثیت ذریعہ تعلیم انگریزی سے انحراف اعلیٰ تعلیم کے لئے نقصان دہ ہوگا۔

جامعہ عثمانیہ کے قیام کے فیصلہ کو عملی روپ دینے کیلئے اردو میں کتابوں کی فراہمی کو اولیت دی گئی۔ اکبر حیدری نے 24 شوال 1334ھ 13 اگست 1913ء کو آصف سابع کی خدمت میں ایک عرضداشت پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ :’’ہر فن و علم کی کتب نصاب تعلیم جو یونیورسٹی کے مختلف مدارج اور امتحانات کے لئے مقرر کی جائیں گی، ان کا اردو زبان میں ہونا نہایت ضرورت ہے جب تک نہ ہوں گی تعلیم یونیورسٹی کا آغاز دشوار ہے‘‘۔

چنانچہ سر رشتہ ترجمہ قائم کرنے اور ’’فارسی اور عربی میں مہارت رکھنے والے اور انگریزی سے اردو میں بطریق احسن خیالات ادا کرسکنے والے اہل علم کی خدمات حاصل کرنے‘‘ کی تجویز پیش کی گئی۔ عرضداشت کی پیش کشی کے دوسرے ہی دن 14 اگست 1917ء کو فرمان جاری ہوا : ’’حسبہ، یونیورسٹی کا شعبہ ترجمہ قائم کیا جائے۔ جس کا سالانہ خرچ جملہ 56252 سے 80364 روپیہ تک ہوگا اور پہلے سال کے لئے اخراجات یکمشت مصرحہ عرضداشت کیلئے سولہ ہزار روپیہ بھی منظور کئے جاتے ہیں‘‘۔
جامعہ عثمانیہ کے مختلف درجوں میٹریوکلیشن، انٹرمیڈیٹ اور بی اے کے لئے نصاب تربیت دیا گیا۔ 1918ء میں دارالعلوم اور فوقانی مدارس میں میٹریکولیشن کی تعلیم کا آغاز کردیا گیا اور سر رشتہ تالیف و ترجمہ میں سب سے پہلے ایف اے کے لئے کتابیں تیار ہونے لگیں۔ یونیورسٹی کے نصاب پر مشاہرین تعلیم کی آراء حاصل کی گئیں۔

10 اگست 1918ء کو اکبر حیدری نے جامعہ عثمانیہ کے دستور العمل کی منظوری کیلئے عرضداشت پیش کی جس پر کسی قدر نزدد کے بعد مجلس وضع قوانین کی منظوری کی بجائے منشور خسروی (رائل چارٹر) جاری کیا گیا۔ جس سے جامعہ کے مرتبہ میں اضافہ ہوا۔
اگست 1918ء میں پہلا میٹریکولیشن امتحان منعقد ہوا۔ 523 طلباء نے شرکت کی اور 92 طلباء نے کامیابی حاصل کی۔ میٹریکولیشن کا نتیجہ برآمد ہونے سے پہلے ناظم تعلیمات سیدراس مسعود نے اکبر حیدری کے مشورے سے عثمانیہ یونیورسٹی انٹرمیڈیٹ کلاس کے آغاز کی اسکیم تیار کرلی۔ انگریزی سے واقف اور اردو میں لیکچر دینے کی صلاحیت رکھنے والے لائق اساتذہ کا کل ہند سطح پر انتخاب اور پرکشش تنخواہوں پر تقرر کا فرماں روائے وقت کو مشورہ دیا گیا۔ پہلے مرحلہ میں ایک پرنسپل اور 18 اساتذہ کی جائیدادوں کیلئے منظوری حاصل کی گئی۔ اس کے علاوہ دارالعلوم کے اساتذہ کو جامعہ کے شعبہ دینیات میں منتقل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ 28 اگست 1919ء کو عثمانیہ یونیورسٹی کالج کا افتتاح ہوا۔ معین امیر جامعہ عثمانیہ محمد حبیب الرحمن خاں شیروانی نے خطبہ افتتاحیہ پڑھا : ’’یہ کام بہت مشکل تھا اور ہے لیکن اعلیٰ حضرت کی شاہانہ سرپرستی اور توجہ، سرکاری عالی کے محکمہ تعلیمات کی جاں فشانی اور ارکان دارالترجمہ کی محنت و عرق ریزی نے اس دشوار گزار مرحلہ کو اس قدر آسان کردیا کہ آج ہمارا پہلا قافلہ بخیر و خوبی جادہ پیما ہوتا ہے‘‘۔

دوسری تمام وجوہات کے علاوہ نصاب میں انگریزی کی لازمی شمولیت جامعہ عثمانیہ کی ترقی اور اردو ذریعہ تعلیم کے تجربہ کی کامیابی کی ضمانت ثابت ہوئی۔ حیدرآباد میں اردو نے فارسی کی جگہ لی تھی اور اس مقام کے حاصل کرنے میں انگریزی سے اردو کا کوئی راست جھگڑا نہ تھا۔ جامعہ عثمانیہ کے قیام کے مقصد علوم جدیدہ کی تعلیم تھا جو کسی ترقی یافتہ زبان کے ذریعہ سے ہی ممکن تھی۔ اس وقت کے ماحول میں انگریزی ہی ایک ترقی یافتہ زبان تھی اور اردو کو ترقی یافتہ زبانوں کی صف میں لا کھڑا کرنے کیلئے انگریزی سے استفادہ ضروری تھا۔ چنانچہ نہایت دوراندیشی و دانش مندی کے ساتھ اردو کو انگریزی کی حریف نہیں بلکہ حلیف بنادیا گیا تاکہ عتمانین انگریزی پر عبور حاصل کرکے علوم جدیدہ کے وسیع سرمایہ سے بہرہ مند ہوسکیں۔ یہ فیصلہ ایک طرح سے انگریزوں کی بھی خوشنودی کا باعث تھا۔ انگریزی کا یہ لزوم جامعہ عثمانیہ کی ترقی میں تعلیمی، انتظامی اور سیاسی ہر اعتبار سے بے حد مبارک قدم ثابت ہوا۔ چنانچہ انگریزی کا یہ لزوم جامعہ عثمانیہ کی ترقی میں تعلیمی، انتظامی اور سیاسی ہر اعتبار سے بے حد مبارک قدم ثابت ہوا۔
جامعہ کی وسعت کے لئے ضروری تھا کہ اس کی ڈگریوں کو دوسری جامعات میں تسلیم کیا جاتا۔

اس مقصد کیلئے بھی انگریزی کا لزوم کام آیا اور یکے بعد دیگرے مختلف جامعات نے جامعہ عثمانیہ کی اسناد کو تسلیم کرنے کے فیصلے کئے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر محمد عبدالستار صدیقی اور ڈاکٹر میکنزی کی کاوشیں قابل قدر ہیں، جنہوں نے ہر اس ادارے کا دروازہ کھٹکھٹایا جن سے اعلی تعلیم یافتہ طلباء کے مفادات وابستہ تھے۔ ان حضرات کی کوششوں کے نتیجہ میں بیشتر جامعات اور ملازمتیں فراہم کرنے والے اداروں نے جامعہ عثمانیہ کی ڈگریوں کو تسلیم کیا۔ آئی سی ایس اور دوسرے مسابقتی امتحانات میں جامعہ کے طلباء شرکت کے اہل قرار دےئے گئے۔ پروفائس چانسلر مسٹر میکنزی نے انگلستان کی جامعات میں عثمانیہ یونیورسٹی کے طالب علموں کو داخلہ دلوانے کیلئے راہ ہموار کی۔ پھر قاضی محمد حسین نے سنہ 1931ء میں اڈنبرگ میں منعقدہ برطانوی ہند کی جامعات کی کانفرنس میں شرکت کی اور ساتھ ہی کیمبرج ’’لیورپول، مانچسٹر، ایڈنبرگ، گلاسگو وغیرہ میں جامعہ عثمانیہ کے طلباء کے داخلے اور ان کے راستہ میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لیا۔

یہ وہ بنیادی اقدامات ہیں جن کی وجہ سے جامعہ عثمانیہ میں اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے میں کامیابی ہوسکی۔ ورنہ طلباء اور عوام میں بیزاری یا کمتری کا احساس پیدا ہوجاتا جس سے جامعہ کے وقار کو سخت دھکا پہنچ سکتا تھا۔
سنہ 1948ء کے آغاز سے ہی ریاست کے غیر یقینی سیاسی حالات کا پرتو جامعہ عثمانیہ پر پڑنے لگا اور جامعہ کی سرگرمیاں ماند پڑگئیں۔ وائس چانلسر ڈاکٹر ولی محمد بھی انگلستان چلے گئے۔ ایسے حالات میں 21 جون 1948ء کو ڈاکٹر رضی الدین صدیقی وائس چانسلر بنائے گے۔ ابھی یہ کچھ منصوبے بنا رہے تھے کہ 13 ستمبر سنہ 1948ء کوحیدرآباد کے ہندوستان میں انضمام کیلئے فوجی کارروائی کا آغاز ہوا۔ 17 ستمبر کو فوج حیدرآباد میں داخل ہوگئی۔ 18 ستمبر کو جنرل جے این چودھری ملٹری گورنر اور جامعہ عثمانیہ کے چانسلر مقرر ہوئے۔ چند دن بعد وائس چانسلر کی دعوت پر جنرل جے این چودھری کیمپس آئے اور طلباء و اساتذہ سے ملاقات کی۔ سردار پٹیل کی حیدرآباد آمد کے موقع پر پروفیسر رضی الدین صدیقی نے دوسرے اساتذہ کے ہمراہ ملاقات کی۔ سردار پٹیل اور جنرل جے این چودھری دونوں نے جامعہ عثمانیہ کی تعلیمی سرگرمیوں سے دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے انتظامیہ معاملات میں تعاون کا یقین دلایا۔

ڈاکٹر رضی الدین صدیقی نے لکھا ہے کہ ارباب مقتدر نے جامعہ کی از سر نو تنظیم کی ان سے خواہش کی تھی لیکن وہ خرابی صحت کی بنیاد پر اس عہدہ سے مستعفی ہونا چاہتے تھے۔ 20 ڈسمبر سنہ 1948 ء کو علی یاور جنگ دوسری بار وائس چانسلر مقرر ہوئے۔ وہ ان دنوں ریاست کے تنظیمی اور سیاسی فیصلوں میں اہم کردار ادا کررہے تھے۔ ان مصروفیات کی وجہ سے چانسلر کو انہوں نے مشورہ دیا کہ پروفیسر رضی الدین بہ حیثیت کارگزار وائس چانسلران کا ہاتھ بٹاسکیں تو باعث سہولت ہوگا۔ چنانچہ ڈاکٹر رضی الدین مزید ایک سال تک جامعہ کے امور کی دیکھ بھال کرتے رہے۔ تاہم پالیسی معاملات پر علی یاورجنگ سے مشاورت کے بعد ہی فیصلے کئے جاتے تھے۔ ذریعہ تعلیم میں تبدیلی کا فیصلہ دراصل سیاسی سطح پر ہوا۔ علی یاور جنگ نے اس میں اہم حصہ ادا کیا۔
سقوط حیدرآباد کے بعد قائم ہونے والی حکومت کے اکابرین کے دل میں اردو کے لئے کوئی نرم گوشہ نہ تھا۔ اسے جاگیردارانہ نظام کی نشانی سمجھا گیا اور دفاتر سے نکالنے کی مہم شروع ہوئی۔ جامعہ عثمانیہ اور اکثر تعلیمی درس گاہوں سے اردو کو ختم کیا گیا جو زبان 30، 32 سال سے آرٹس، سائنس، قانون، طب اور انجینئرنگ کی اعلی تعلیم کا ذریعہ بنی ہوئی تھی، اس کو ماہرین تعلیم سے کسی قسم کی مشاورت کے بغیر اس کے اعلیٰ منصب سے محروم کردیا گیا۔ ملک میں اس وقت تک یہ فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ کونسی زبان ہندوستان کی قومی زبان ہوگی؟ مجلس دستور ساز میں یہ موضوع زیر بحث تھا۔ حیدرآباد میں برسر اقتدار طبقہ اس فیصلہ کا انتظار کئے بغیر کسی صورت اردو سے نجات حاصل کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ درمیانی صورت یہ نکالی گئی کہ دینا گری اور اردو دانوں رسم الخط کے ساتھ گاندھی جی کی مجوزہ ہندوستانی زبان کو جون سنہ 1949ء سے جامعہ میں ذریعہ تعلیم کا موقف دے دیا جائے۔

سنہ 1948ء کے بعد سے دارالترجمہ کے کام میں ٹھہراؤ آگیا۔ علی یاور جنگ نے 7 اپریل 1949ء کو سجاد مرزا معتمد تعلیم، ڈاکٹر سید حسین، دور اسوامی، جعفر حسن، فضل الرحمٰن، ڈاکٹر نظام الدین، ڈاکٹر شرما رجسٹرار اور وینکٹ راؤ معتمد ہندوستانی پرچار سبھا پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی۔ ہندوستانی کو ذریعہ تعلیم بنانے کیلئے اقدامات، تلگو ، مرہٹی اور کنڑی کی متوازی جماعتوں کیلئے نصابی کتابوں کی تیاری، مترجمہ کتاابوں کی ہندی میں منتقلی جیسے مسائل پر اس کمیٹی نے 16 اپریل سنہ 1949ء کو اپنی ایک نشست میں غور و خوض کیا۔ طئے کیا گیا کہ تراجم نہ سنسکرت آمیز ہوں اور نہ عربی آمیز، ہر کتاب اردو اور انگریزی رسم الخط میں شائع ہو۔

متعمد تعلیم سجاد مرزا نے رومن رسم الخط اختیار کرنے کی بھی وکالت کی لیکن یہ تجویز آگے نہ بڑھ سکی۔ نئی کتابوں کا انتظار کئے بغیر آسان زبان میں لکچر دینے کا اساتذہ کو مشورہ دیا گیا اور انہیں جلد سے جلد ناگری رسم الخط لکھنے کیلئے وارننگ بھی دی گئی۔ دارالترجمہ کی نگرانی کے لئے 12 رکنی ’’پالیسی‘‘ ساز کمیٹی‘‘ بنائی گئی۔ 1949ء میں کوئی 14 کتابیں ترجمہ اور تالیف کے مرحلے سے گزر رہی تھیں کہ بیشتر مترجمین سے کام واپس لے لیا گیا۔ ناظم دارالترجمہ کو وائس چانسلر نے 7 اپریل سنہ 1949 کو ہدایت دی کہ قطعی فیصلوں تک دارالترجمہ کا کام روک دیا جائے۔

دسمبر سنہ 1948ء کے بعد سے دیڑھ دو سال تک جامعہ ہنگامہ و غیر یقینی حالات سے دوچار رہی۔ ذریعہ تعلیم کے مسئلہ پر مختلف قسم کی کمیٹیاں بنتی رہیں اور نئی نئی تجاویز پیش ہوتی رہیں۔ لیکن منزل کا کسی کو پتہ نہ تھا۔ اکثراساتذہ عاجلانہ فیصلوں اور کام کے طریقہ کار سے مطمئن نہ تھے۔
ہندی کو ملک کی قومی زبان بنانے کے فیصلے کے ساتھ ہی ہندوستانی زبان کا تصور بھی ختم ہوگیا۔ ارباب جامعہ دو سال کے تجربہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہندی کو ذریعہ تعلیم بنانا ممکن نہیں۔ سابقہ فیصلے کی روشنی میں پروفیشنل کورسس میں انگریزی کے ذریعہ تعلیم کا زور و شور کے ساتھ آغاز ہوچکا تھا۔ آرٹس و سائنس کی فیکلٹیوں کیلئے بھی تعلیمی سال 1951-52ء سے انگریزی ذریعہ تعلیم بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ اس طرح ایک ہندوستانی زبان کے ذریعہ تعلیم دینے والی ملک کی پہلی منفرد جامعہ کا کردار بدل دیا گیا۔

XS
SM
MD
LG