رسائی کے لنکس

اردو ترکی کا لفظ ہے، جِس کا تلفظ ’اوردو‘ ہے اور معنی فوج کے ۔۔

  • اسد نذیر

اردو ترکی کا لفظ ہے، جِس کا تلفظ ’اوردو‘ ہے اور معنی فوج کے ۔۔

اردو ترکی کا لفظ ہے، جِس کا تلفظ ’اوردو‘ ہے اور معنی فوج کے ۔۔

لیکن، میرے لیے یہ ’محبت کی زبان‘ ہے۔ اِس کے ذریعے مجھے ایسے دوست ملے جو میرے رشتہ داروں سے زیادہ میرے قریب ہیں: استنبول یونی ورسٹی کے اردو شعبے کے سربراہ خلیل توقر

کئی برس پہلے’ وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں پروفیسرخلیل توقر نے’اردو اور بر صغیر کے مسلمانوں کے ساتھ اپنی قربت اور یگانگت‘ کا ذکر کیا۔

اِس انٹرویو میں خلیل توقر نے بتایا کہ اُنھوں نے اردو استنبول یونی ورسٹی میں پڑھی۔ پھر اردو کے ساتھ اتنی رغبت بڑھی کہ اسی زبان میں شاعری شروع کردی۔ اپنی شاعری کا تذکرہ کرتے ہوئے اُنھوں نے یہ دلچسپ انکشاف کیا کہ ُان کی اہلیہ کا تعلق لاہور سے ہے۔ شادی سے قبل اُنھوں نے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے شاعری کو ذریعہ بنایا۔

وہ کہتے ہیں : ’ہوا یہ کہ میں اپنا درد و الم، شکوہ شکایات جو دوسروں سے چھپا رہا تھا تو میں اسے اپنی اہلیہ سے چھپانے کے لیے شاعری کا سہارا لیا، تاکہ اُن کو میری باتیں بری نہ لگیں ۔ اور یوں میں شعر کہتا رہا ۔ پھر، بعد میں، میری اہلیہ نے میرے اشعار جمع کرنا شروع کردیے’۔

’اب میرے کلام کے دو مجموعے ہیں۔ ایک کا نام ہے’ ایک قطرہ آنسو‘ اور’ آخری فریاد‘۔ ویسے، میں خود بنیادی طور پر بے حد شرمیلا ہوں۔ اِس لیے، میں دوسروں کو اپنی شاعری نہیں دکھاتا۔ زیادہ تر میں آزاد شاعری کرتا ہوں۔ میں نے شاعری کے لیے باقاعدہ شاگردی اختیا ر نہیں کی۔ مجھے شروع سے کلاسیکی شاعری کا شوق ہے۔ مجھے میر، غالب، فیض اور ن م راشد بہت پسند ہیں‘۔

خلیل توقر کہتے ہیں کہ میں شاعری کرتے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہ اپنے اندر کے درد و الم کو بیا ن کروں۔ ’میں نے ایک ادبی رسالہ ’ارتباط‘ کے نام سے نکالا ، جس کا مقصد نئی نسل کو اپنے صدیوں پرانے تعلقات سے روشناس کرانا اور اُن کی تجدید کرنا تھا۔

Halil Toker, Professor of Urdu, University of Istanbul

Halil Toker, Professor of Urdu, University of Istanbul

چند اشعار:

اہلِ دل سے کر لیا عہدِ وفا پھر کیا ہوا

جامِ غم میں بھر دیا غم بے وفا پھر کیا ہوا

بر سرِ عالم کہا ہٹ جا مری رہ سے خلیل

زندگی سے کر دیا مجھ کو خفا پھر کیا ہوا

جنونِ محبت کی سرحد سے آگے

بٹھا کر اکیلے میرے یار بھاگے

چھپایا غمِ دہر قلبِ حزیں میں

فرشتے مری آہ سن کے نہ جاگے

ایک آزاد نظم کا اقتباس:

انسانیت کہاں گئی ہے انسانو

مجھے اب تک اس کی تلاش رہتی ہے

تھک گیا لاچار ہوا بے بس رہا

برسوں سے دھونڈتا رہتا ہوں اسے

نہیں ملا اس کا نشان تک مجھے

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG