رسائی کے لنکس

واشنگٹن: ساتویں یوم ِآزادی مشاعرے اور ’کوی سمیلن‘ کا انعقاد


مشاعرے میں ڈاکٹر عبدﷲ، باقر زیدی، عزیز قریشی، ستیہ پال آنند، دلیر دیول آشنا، گلشن مدھر، کرن ناتھ، محمد حسین امام، راکیش کھنڈیلوال، رضی رضی الدین، وندنا سنگھ اور وشاکھا ٹھاکر جیسے کئی نامور اردو اور ہندی کے شعراٴ نے شرکت کی

’علیگڑھ المنائی ایسوسی ایشن‘ اور ’گلوبل آرگنائزیشن آف پیپل آف انڈین اوریجن (گوپیو)‘ کے زیر اہتمام، حالیہ دنوں کے دوران واشنگٹن میں ایک مشاعرے اور ’کوی سمیلن‘ کا انعقاد کیا گیا۔

تقریب کے مہمان خصوصی بھارتی سفارت خانے کے ثقافتی امور کے منسٹر، این کے مشرا تھے۔

پہلی نشست کی صدارت، بین الاقوامی شہرت کے حامل ادیب اور شاعر ستیہ پال آنند نے کی، جبکہ مشاعرے کی دوسری نشست کی صدارت معروف پاکستانی نژاد شاعر، ادیب اور سابق مدیر ’پاکستان لنک‘، اور کئی تخلیقات کے مصنف، جناب عبدالرحمان صدیقی نے کی۔

یہ تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ پہلی نشست میں جناب سریندر دیول کی ’دیوان غالب‘ کے ترجمے کی کتاب کا اجرا تھا۔ دوسری نشست میں، مشاعرے میں کئی نامور اردو اور ہندی کے شعراٴ نے شرکت کی، جن میں ڈاکٹر عبدﷲ، باقر زیدی، عزیز قریشی، ستیہ پال آنند، دلیر دیول آشنا، گلشن مدھر، کرن ناتھ، محمد حسین امام، راکیش کھنڈیلوال، رضی رضی الدین، وندنا سنگھ اور وشاکھا ٹھاکر شامل تھیں۔

نوجوان شاعرہ، وندنا سنگھ نے زندگی کی تفسیر کچھ یوں کی:

’مکھی بن کر وقت کریدے ہے کھلے گھاؤ سی زندگی‘

’محبت کا المیہ‘، رضی رضی الدین نے کچھ یوں بتایا:

’کیسی پریت رچائی تونے ہم جیسے دیوانے میں

جیسے شمع جی اٹھی ہو پگھل پگھل مرجانے میں‘

عزیز قریشی انسانی وجود کی اسراریت اور غریب الوطنی پر اس طرح گویا ہوئے:

’انسان کا وجود ہے اسرار میں نہاں، اتنا سمجھ میں آتا ہے جتنا دکھائی دے

اس شہر نا سپاس میں سب اجنبی ہیں، اپنا تو کوئی میرے مولا دکھائی دے‘

جناب صدر، عبدالرحمان صدیقی کی آسان لفظوں میں گندھی پُراثر شاعری نے تحت اور ترنم میں سماں باندھ دیا:

’کٹی عمر ساری تو گھر یاد آیا، چلو ہوش آخر ٹھکانے لگے‘

قبل ازیں، ’گوپیو‘ کے صدر، ڈاکٹر ظفر اقبال نے مہمانوں کا استقبال کیا اور علیگڑھ المنائی کے صدر ڈاکٹر فضل خان نے مختصر الفاظ میں تنظیم کا تعارف اور مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ تقریب کے اختتام پر ’گوپیو‘ کی نیشنل کو آرڈی نیٹر ڈاکٹر رینوکا نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

XS
SM
MD
LG