رسائی کے لنکس

کائنات کی وسعتیں، بے کل اتساہی کی شاعری

  • شہناز عزیز

اُنھوں نےصرف اردو ہی میں نہیں، بلکہ بھوجپوری میں بھی ایسے خوبصورت گیت لکھے ہیں جن کی مٹھاس اور سادگی آپکے دل کو چھو لیتی ہے

بےکل اتساہی اردو شاعری کا ایک انتہائی معتبر نام ہے۔ اُن کی شاعری اپنے گہرے موضوعات کے باوجود ایک عام آدمی کی زبان میں ہے، جس کی وجہ شائد ان کا اپنے گاؤں سے نسلوں پرانا رشتہ ہے۔

لئے کائنات کی وسعتیں ہے دیار دل میں بسی ہوئی
ہےعجیب رنگ کی یہ غزل، نہ لکھی ہوئی نہ پڑھی ہوئی
نہیں تم تو کوئی غزل ہوکیا، کوئی رنگ و بو کا بدل ہو کیا
یہ حیات کیا ہو، اجل ہو کیا، نہ کھلی ہوئی نہ چھپی ہوئی
ہے یہ سچ کہ منظرِخواب ہے میرے سامنے جو کتاب ہے
وہ جبیں کہ جس پہ گلاب کی کوئی پنکھڑی ہے پڑی ہوئی
وہی ربطِ عکسِ جمال بھی، وہی خبطِ حُسنِ جمال بھی
وہی ضبطِ حُزن وملال بھی شبِ ہجررسمِ خوشی ہوئی
وہ محل کی چھت پہ جو چاند ہے، خدا جانے کاہے کو ماند ہے
یہ طِلِسْم ہے کسی حُسن کا، یا مری نظر ہے تھکی ہوئی

بے کل اتساہی 20جولائی کو ’کچھ تو کہئے‘ میں، ایک ایسے شاعر ہمارے مہمان تھے جنہوں نے صرف اردو میں ہی نہیں، بلکہ بھوجپوری میں بھی ایسے خوبصورت گیت لکھے ہیں جن کی مٹھاس اور سادگی آپکے دل کو چھو لیتی ہے۔

اب نہ گیہوں نہ دھان بوتے ہیں، اپنی قسمت کسان بوتے ہیں
گاؤں کی کھیتیاں اجاڑ کے ہم، شہر جاکے مکان بوتے ہیں

بلرام پور، بھارت کے بےکل اتساہی کا نعتیہ کلام ان کی نمائندہ شاعری ہے۔ اسے سننے کا اِس ماہِ مقدس سے احسن اور کون سا موقع ہو سکتا ہے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG