رسائی کے لنکس

اردو کا پہلا جرمن شاعر فراسو۔۔۔ ایک تحقیق


اردو کا پہلا جرمن شاعر فراسو۔۔۔ ایک تحقیق

اردو کا پہلا جرمن شاعر فراسو۔۔۔ ایک تحقیق

نوآبادیاتی دور میں انگریزوں کے علاوہ یورپ سے تعلق رکھنے والے دوسرے ملکوں کے لوگ بھی ہندوستان آئے اور ان میں سے کئی تو یہیں کی تہذیب کے رنگ میں رس بس گئے۔ کچھ اردو کے شاعر اور ادیب بھی بنے اور اپنی تخلیقات کے نمونے چھوڑ گئے۔ انھی میں سے ایک شخصیت فرانز گوٹلیب کوہن بھی تھے، جو فراسو کے تحلص سے شاعری کرتے تھے۔

فراسو کے دیوان کا نام ’گنبد گیتی نما‘ تھا۔ اس میں ان کا اردو، فارسی اور ہندی کا تمام کلام محفوظ ہے۔ فراسو نے ”شمس الزکائی“ کے عنوان سے ایک تذکرہ بھی لکھا تھا۔ مولانا حسرت موہانی نے فراسو کے کلام کا انتخاب اپنے رسالہ اردوئے معلیٰ میں شائع کیا تھا۔
فرانز گوٹلیب کوئن فراسو کو اپنی فارسی اور اردو شاعری کے سبب خاصی اہمیت حامل ہے۔ اس سلسلے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ ڈاکٹر راحت ابرار نے کافی تحقیق اور جستجو سے ایک مقالہ لکھا ہے اور اس انڈو جرمن شاعر کے حالات پیش کئے ہیں۔
ا ن کی تحقیق کے مطابق فراسو کے نواسے جارج پیش نے ان کے حالات قلم بند کیے ہیں۔ جارج پیش بھی اردو اور فارسی میں شاعر ی کرتا تھا اور ان کا تخلص شور تھا۔ اس نے ہی اتر پردیش کے ضلع باغپت کے مقام ہر چند پور میں فراسو کا مقبرہ تعمیر کروایا تھا اور اس پر ایک تختی بھی نصب کروائی تھی۔

فراسو کا انتقال 84سال کی عمر میں ہوا تھا۔ اس کی حویلی کے آثار آج بھی ہرچند پور میں موجود ہیں۔ اس کا مقبرہ بھی اب تک موجود ہے۔

فراسو کے والد جان آگسٹس گوٹلیب کوہن جرمن یہودی تھے جو ریاست سردھنا کی نواب بیگم سومرو کے دربار سے وابستہ تھے۔ انھوں نے ایک مغل شہزادی سے شادی کی تھی، جن کے بطن سے 1777ء میں فراسو پیدا ہوئے۔ فراسو کی تربیت اس کے خالو لوئی بالتھر رین ہارٹ عرف نواب ظفر یاب خاں کی نگرانی میں ہوئی تھی جو خود بھی جرمن تھا۔ وہ رئیسوں کی طرح زندگی بسر کرتا تھا اور اس کے مصاحبین میں اردو اور فارسی کے شعرا کی اچھی خاصی تعداد تھی۔ فراسو نے خیراتی خاں دلسوز دہلوی سے اپنے کلام پر اصلاح لی تھی جو افغانی تھے اور نواب ظفر یاب کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔

فراسو کو جرمن، انگریزی، فارسی، ارد و اور ہندی پر دسترس حاصل تھی۔ وہ 1857ء کی بغاوت کا بھی عینی شاہد تھا۔ اس لیے جب باغیوں نے دلی پر قبضہ کر لیا تو بہت سے انگریز افسران اپنی جان بچا کر فراسو کی حویلی ہر چند پور میں چھپے تھے۔ فراسو نے نہ صرف انگریزوں کو پناہ دی بلکہ بہت سے انقلابیوں کو قتل بھی کر وا دیا۔

فراسو آخری دن تک اپنی اسی حویلی میں رہا اس حویلی کا صدر دروازہ آج بھی 1857ء کی خونی بغاوت کا گواہ ہے۔ البتہ اس کے خاندان کے ایک فرد نے 1990ء میں اس حویلی اور تمام جائداد کو فروخت کر دیا۔ اب یہ خاندان دو سو سال بعد پھر فرانس واپس چلاگیا ہے۔

انگریزوں کی فتح سے فراسو اس قدر مسرور تھا کہ اس نے غدر کی منظوم تاریخ ’فتح نامہ‘کے عنوان سے فارسی میں لکھی تھی، جس کا ایک قلمی نسخہ خدا بخش لائبری میں موجود ہے۔ حال ہی میں ڈاکٹر عتیق الرحمن نے ایک مقالہ لکھا ہے جو لائبریری کے جرنل 151میں شائع ہوا ہے۔

اس مثنوی میں فراسو نے انگریزوں کی بہادری اور جرات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے اور ہندوستانیوں کے لیے خراب اورغیر مہذب الفاظ کا استعمال کیا ہے:
سخن نیک را خلق دارد سپاس
نہ باور شود انکہ دور از قیاس
سخن راست موزون دارد فروغ
چوباور نہ افتد شود آں دروغ
فراسو سبک باش تا زندگی
نہ آید بدل تو پرا گندگی
فراسو کا یہ فتح نامہ 2482 اشعار پر مشتمل ہے اور اس سے فراسو کا فارسی زبان پر درک کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس نے شاعری کے تمام لوازمات کو بہت اچھی طرح برتا ہے۔ فراسو کو فارسی کی ہی طرح اردو پر بھی دسترس حاصل تھی اور اس کے دیوان میں اردو کے کافی اشعار موجود ہیں۔ اس نے غزلیں بھی کہی ہیں اور نظمیں بھی۔ چند اشعار نذرِ قارئین ہیں:

درد ہے، غم ہے، نا توانی ہے
مرگ کا نام زندگانی ہے
قصر تعمیر کر چکے ہیں بہت
منزلِ گور اب بنانی ہے


آنے کی خبر ہے تیرے لیکن
آتا نہیں اعتبار دل کو
گردش نے تری تو جی سے کھویا
اے گردشِ روزگار دل کو

گر پختہ مزاج ہو تو سمجھو
ہے رشتہٴ خام زندگانی
یہ صبح سے حال ہے تو کیونکر
ہوگی تاشام زندگانی

قلم بھی جان پر روتا ہے میری
یہ آنسو ہیں نہ سمجھو تم سیاہی

فراسو تم سے وہ ہوتا جدا کیوں
تمہارا کچھ بھی گر ہوتا ذرا پاس

فراسو کے افکار میں بہت بلندی نہ سہی لیکن اسے زبان پر قدرت ضرور حاصل تھی، اس لیے اس کی شاعری میں زبان کا ذائقہ ملتا ہے۔

XS
SM
MD
LG