رسائی کے لنکس

اردو کے معروف مستشرق پروفیسر رالف رسل کا یادگار انٹرویو

  • اسد نذیر

Professor Ralph Russel

Professor Ralph Russel

رالف رسل صاحب 21 مئی 1918ء میں پیدا ہوئے، تقریباً نوّے سال کی عمر پائی اور 14 ستمبر 2008 ءمیں اس جہانِ فانی سے کوچ کیا

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

چند برس پہلے جب پروفیسر رالف رسل حیات تھے ، تب ہم نے ان سے فرمائش کی تھی کہ وہ غالب کے پسندیدہ اشعار سنائیں تو دوسرے اشعار کے علاوہ انہوں نے یہ شعر بطور خاص سنایا تھا۔

’وائس آف امریکہ‘ کی’ اردو سروس‘ کے ساتھ اُن کی یہ مختصر گفتگو ہمارے پاس تبرکاً محفوظ ہے اور اب آپ بھی اسے سُن سکتے ہیں۔

رالف رسل صاحب 21 مئی 1918ء میں پیدا ہوئے، تقریباً نوّے سال کی عمر پائی اور 14 ستمبر 2008 ءمیں اس جہانِ فانی سے کوچ کیا۔

دوسری جنگِ عظیم کے دوران ہندوستان گئے ، وہیں اردو سے تعلق استوار ہوا ، اور پھر یہ تعلق اوڑھنا بچھونا بن گیا، ولایت واپسی کے بعدلندن یونی ورسٹی کے مشرقی اور افریقی مطالعات کے شعبے سے منسلک رہے اور سینکڑوں طلباء کو اردو زبان و ادب سے روشناس کیا۔

درس و تدریس کے ساتھ ساتھ تحقیق و تصنیف کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ علی گڑھ یونی ورسٹی کے پروفیسر خورشیدالاسلام کے ساتھ مل کر غالب کے خطوط اور حالاتِ زندگی پر کام کیا۔ زندگی کے آخری دنوں میں غالب کے اردو اور فارسی کلام کا انگریزی میں ترجمہ کیا ۔

منسلک انٹرویو میں پروفیسر رالف رسل نے بڑے دلچسپ انداز میں اعتراف کیا کہ انگریز کے لیے اردو غزل کا سمجھنا واقعی ایک مشکل کام ہے۔ مگر رسل صاحب کے لیے ایسا نہیں۔ وہ تو غالب کے عاشقوں میں سے ایک تھے۔ باتیں تو انہوں نے اور بھی کیں سو بقیہ باتیں انہیں کی اواز میں سنئیے۔۔۔۔

XS
SM
MD
LG