رسائی کے لنکس

ماروی بی اے پاس ہیں اور کراچی سے نکلنے والے ایک رسالے میں مترجم کے طور پر کام کرتی ہیں۔ آمدنی کم اور گھر کی ذمے داریاں زیادہ ہیں۔ انہیں کئی سال پہلے شادی کر لینی چاہئے تھی۔ لیکن، نہیں کی۔ اس کی وجہ وسائل کی کمی نہیں۔۔ کچھ اور تھی

ماروی کا تعلق اندرونِ سندھ کے علاقے میرپور ساکرو سے ہے۔ لیکن، وہ عرصے سے کراچی میں مقیم ہیں۔ ان کی ایک رشتے کی خالہ ان کی سرپرست ہیں اور ماروی انہی کے گھر میں رہتی ہیں۔

ماروی بی اے پاس ہیں اور کراچی سے نکلنے والے ایک رسالے میں مترجم کے طور پر کام کرتی ہیں۔ آمدنی کم اور گھر کی ذمے داریاں زیادہ ہیں۔ انہیں کئی سال پہلے شادی کرلینی چاہئے تھی۔ لیکن، نہیں کی۔ اس کی وجہ وسائل کی کمی نہیں۔۔ کچھ اور تھی۔

کچھ سال پہلے کی بات ہے۔ ان کے والدین اندرونِ سندھ سے کراچی آئے ہوئے تھے۔ خالہ نے انہیں یہاں بلایا تھا۔ خالہ اپنے ایک دور پرے کے رشتے دار سے ماروی کا رشتہ کرانا چاہتی تھیں۔

طے شدہ پروگرام کے مطابق، لڑکے والے ماروی کو دیکھنے ان کے گھر آئے۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ لیکن، لڑکے کی والدہ کے چہرے سے عیاں تھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتی ہیں۔ لیکن، کہہ نہیں پا رہی تھیں۔ سب نے ان کی خاموشی نوٹ کی۔

یہ خاموشی اگلے دن اس وقت ٹوٹی جب ماروی کی خالہ نے لڑکے کی والدہ سے رشتے سے متعلق فیصلہ جانا۔ جواب میں انہوں نے جو کچھ کہا ماروی آج تک وہ سب کچھ بھلا نہیں پائیں۔ ان کا رشتہ بنتے بنتے محض اس بنا پر رہ گیا کہ ان کے چہرے پر سرخ رنگ کے عجیب عجیب سے نشان ہیں۔

ماروی سن بلوغت کے وقت سے ہی ان سرخ نشانوں سے پیچھا چھڑانے کی کوشش میں تھیں۔ لیکن، ہر نسخہ ناکام رہا۔ یہ سرخ نشانات شاید کسی غیر معیاری اشیاء خاص کر میک اپ کی وجہ سے پہلی بار ابھرے اور بعد میں رفتہ رفتہ الرجی میں بدلتے گئے۔

ماروی جیسی لڑکیاں اور بڑی حد تک لڑکے بھی تعداد میں دو چار نہیں سینکڑوں ہیں کیوں کہ پاکستان میں آلودگی اور غیرمعیاری اشیا کے استعمال کے باعث جلد کی بیماریوں اور خاص کر الرجی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تشویشناک امر یہ ہے کہ جلدی امراض خاص کر ’پتی اچھلنے‘ یا ’ارٹی کیریا‘ کو بھی لوگ معمولی الرجی سمجھ کر نظرانداز کردیتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اس کے خطرناک ہوسکتے ہیں۔

ماہر امراض جلد، ڈاکٹر حنیف سعید نے وائس آف امریکہ کو بتایا ’ارٹی کیریا‘ جسے مقامی طور پر ’پتی اچھلنا‘ بھی کہتے ہیں جلد سے جڑی الرجی کی ہی ایک قسم ہے جس میں ابتدا میں چہرے پر سرخ دانے نمودار ہوتے ہیں جو بعد میں پورے جسم پر پھیل جاتے ہیں۔‘

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’ارٹی کیریا کا شکار مریض نہ صرف دانوں کی تکلیف سہتا ہے بلکہ ان دانوں میں ہونے والی خارش بھی شدید تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ یہ الرجی کوئی عام الرجی نہیں۔ کسی کو یہ الرجی ہوجائے تو ختم ہونے میں مہینوں لگتے ہیں۔ ایسی صورت میں جبکہ آرٹی کیریا میں الرجی کی کوئی عام دوا یا اسٹیرائیڈ بھی بہت زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوتی ہوتے۔‘

’کچھ ڈاکٹر بیماری کی نوعیت کو فوری نہیں سمجھ نہیں پاتے اور اسے ’ایگزیما‘ یعنی ’خارش‘ قرار دیتے ہیں جبکہ ایگزیما اور ارٹی کیریا میں بہت فرق ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’دراصل یہی فرق دونوں بیماریوں کے علاج میں بھی ہے۔ ارٹی کیریا ایک دفعہ کسی کو ہو جائے تو مریض صحت مند ہونے میں کافی وقت لیتا ہے، جبکہ کچھ وقفے یا عرصے کے بعد یہ بیماری دوبارہ سر اٹھا لیتی ہے۔‘

ارٹی کیریا سے بچاوٴ کے لئے اپنے معمولات زندگی خصوصاً کھانے پینے میں احتیاط ضروری ہے۔ بہت زیادہ مرغن یا چکنائی والی غذاوٴں سے بھی ارٹی کیریا الرجی کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ مرض سے بچاوٴ کے لئے ’احتیاط۔۔علاج سے بہتر ہے‘ کے مقولے پر عمل کرنا ضروری ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 24 فیصد افراد ارٹی کیریا کے مرض میں مبتلا ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد خواتین کی ہے۔ ‘

XS
SM
MD
LG