رسائی کے لنکس

جیری نے کہا کہ انھیں اپنے دوست کے مشورے پر عمل کرنے میں 48 سال لگے اور انھوں نے 2011ء میں کالج میں بطور طالب علم داخلہ لیا۔

امریکہ میں مئی کا مہینہ طلبا کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ اس ماہ میں انھیں ان کی محنت کا صلہ ڈگری کی صورت میں ملتا ہے۔ لیکن اس بار یونیورسٹی آف ورجینیا کے گریجویٹ سب کی توجہ کا خاص مرکز تھے۔

70 سالہ جیری ریڈ بھی اس برس یونیورسٹی آف ورجینیا سے گریجویٹ کرنے والوں میں شامل ہیں۔

سالوں پہلے شاید وہ دیگر طلبا کی طرح کے ایک عام طالب علم ہی نظر آتے لیکن پھر بھی مختلف شبہات کے باوجود وہ ان طلبا کا ہی حصہ معلوم ہوتے ہیں۔

ان کے ہم جماعتوں کا کہنا تھا کہ جیری بہت دوستانہ رویے کے مالک یہ وہ ان سے کسی بھی موضوع پر کھل کر تبادلہ خیال کرسکتے ہیں۔

جیری ریڈ اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ اوائل عمری میں وہ بھی دیگر نوجوانوں کی طرح کھیل کود میں مشغول رہتے تھے اور کاروں کی ریس اور اس عمر کے لڑکوں کی دیگر سرگرمیوں کی طرح ان کے بھی وہی مشاغل تھے۔

اس دور میں ہی ان کے ایک دوست بل سٹورمین نے انھیں یونیورسٹی آف ورجینیا میں ہونے والی محفلوں میں مدعو کیا۔

"بل نے مجھے بتایا کہ میں نے اپنے ساتھ کتنی زیادتی کی اور اس نے کہا کہ میں اپنی زندگی میں کچھ بھی حاصل نہیں کر سکوں گا اگر میں یہاں اس کے ساتھ اسکول نہیں جاتا۔"

جیری نے کہا کہ یہ بات 1963ء کی تھی اور انھیں اس مشورے پر عمل کرنے میں 48 سال لگے اور انھوں نے 2011ء میں کالج میں بطور طالب علم داخلہ لیا۔

ریڈ کا کہنا تھا کہ وہ فی الوقت اپنی بیوی سوزان کے ساتھ اپنی ڈگری حاصل کرنے کی خوشی منائیں گے اور پھر ماسٹرز ڈگری کے لیے یونیورسٹی آف ورجینیا واپس آئیں گے۔
XS
SM
MD
LG