رسائی کے لنکس

صدر براک اوباما نے اتوار کو وائٹ ہاؤس میں مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر 46 منٹ پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کر کے اس حملے کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا۔

امریکہ میں اتوار کو 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کی پندرہوں برسی منائی جا رہی ہے۔

15 سال قبل القاعدہ کے دہشت گردوں نے اغوا شدہ مسافر طیاروں کے ذریعے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگان کو نشانہ بنایا۔ چوتھا جہاز پینسلوینیا کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

صدر براک اوباما نے اتوار کو وائٹ ہاؤس میں مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر 46 منٹ پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کر کے اس حملے کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا۔

2001ء میں عین اسی وقت پہلا اغوا شدہ طیارہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکرایا تھا۔

صدر پنٹاگان میں بھی اس سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کریں گے جب کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں مارے جانے والوں کے لواحقین انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔

ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی حریف ڈیموکریٹک ہلری کلنٹن بھی نیویارک میں گراؤنڈ زیرو جائیں گے اور ان دونوں نے آج کے روز اپنی انتخابی مہم کی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔

نیویارک میں منعقدہ تقریب میں حملوں میں مارے جانے والے 2983 افراد کے نام فرداً فرداً پکارے جائیں گے۔ غروب آفتاب کے وقت شہر میں روشنیوں کی مدد سے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارت کی عکاسی کی جائے گی۔

ہفتہ کو اپنے ہفتہ وار خطاب میں صدر اوباما نے کہا کہ "پندرہ سال قبل ستمبر کا یہ دن کسی بھی دوسرے عام دن کی طرح شروع ہوا لیکن یہ ہماری قوم کی تاریخ کا سیاہ ترین دن بن گیا۔"

ان کا کہنا تھا کہ 15 سالوں میں بہت کچھ تبدیل ہو گیا، لیکن "یہ یاد رکھنا بہت اہم ہے کہ جو تبدیل نہیں ہوا۔۔۔ہمیں امریکی ظاہر کرنے کی بنیادی اقدار۔۔۔دہشت گرد امریکہ کو کبھی بھی شکست دینے کے قابل نہیں ہوں گے۔"

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اتوار کو ٹوئٹر پر کہا کہ "آج کے دن ہم انھیں یاد کرتے ہیں جنہیں ہم نے کھو دیا، جنہوں نے ہمیں بچانے کی کوشش کی۔ ہم امن، سلامتی اور دنیا بھر میں انصاف کو فروغ دے کر انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔"

یہ حملے 1941ء میں دوسری جنگ عظیم کے آغاز پر پرل ہاربر میں ہونے والی بمباری کے بعد امریکی سرزمین پر ہونے والے سب سے زیادہ ہلاکت خیز قرار دیے جاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG