رسائی کے لنکس

نیو یارک میں سکیورٹی کے سخت انتظامات


نیو یارک میں سکیورٹی کے سخت انتظامات

نیو یارک میں سکیورٹی کے سخت انتظامات

نیو یارک کے میئر مائیکل بلومبرگ نے کہا ہے کہ اس ’’قابلِ یقین‘‘ لیکن تاحال غیر مصدقہ خطرے کے پیش نظر شہر میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں کہ 11 ستبر 2001ء کو ہونے والے دہشت گرد حملوں کے 10 برس مکمل ہونے کے موقع پر مخصوص حملے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

پولیس کمشنر رے کیلی نے جمعرات کی شب اسی نیوز کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ سکیورٹی کے اضافی اقدامات میں نیو یارک میں گاڑیوں کی تلاشی کے لیے چوکیوں کا قیام، زیر زمین ریل گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کے سامان کی تلاشی اور بارودی مواد کی موجودگی کی نشاندہی کرنے والے کتوں اور تابکاری کی سطح بتانے والے آلات سے لیس خصوصی ٹیموں کی تعیناتی شامل ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ سرنگیں، پُل اور بنیادی ڈھانچے میں شامل دیگر اہم تنصیبات پولیس کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں، جب کہ تاریخی مقامات، سرکاری عمارتوں اور عبادت گاہوں کی بھی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔

کیلی نے کہا کہ آئندہ چند روز تک کام پر حاضر پولیس اہلکاروں کی تعداد معمول سے زیادہ ہو گی، اور اس سلسلے میں اہلکاروں کے اوقات کار میں چار گھنٹے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

میئر بلومبرگ نے نیو یارک کے رہائشیوں سے درخواست کی کہ وہ ہوشیار رہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے بارے میں متعلقہ اداروں کو آگاہ کریں۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ خطرے کے باوجود شہریوں کو اپنے معمولات زندگی جاری رکھنے چاہیئں۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ جمعہ کی صبح اس احساس کے ساتھ زیر زمین ریل کے ذریعے اپنے دفتر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ اتنے ہی محفوظ ہیں جتنا کہ جمعرات کو تھے۔

امریکی حکام نے جمعرات کو بتایا کہ اُنھیں ’’قابلِ یقین خطرے‘‘ کے حوالے سے معلومات ملی ہیں جس کا نشانہ بظاہر واشنگٹن یا نیو یارک ہو سکتا ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ اُنھیں شبہ ہے کہ ایک امریکی شہری سمیت تین افراد خودکش کار بم حملے کے ارادے سے اگست میں امریکہ میں داخل ہوئے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما کو ان خطروں سے متعلق معلومات سے مسلسل آگاہ کیا جا رہا ہے، اور مسٹر اوباما نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ امریکہ کو حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کوششیں میں اضافہ کر دیا جائے۔

رواں ہفتے امریکہ نے حفاظتی اقدام کے طور پر اندرون ملک فوجی اڈوں پر سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے تھے۔

XS
SM
MD
LG