رسائی کے لنکس

لیبیا کے بحران کے حل کے لیے روم میں اجلاس


امریکہ اور اٹلی کے وزرائے خارجہ

امریکہ اور اٹلی کے وزرائے خارجہ

منصوبے کے تحت 40 دن کے اندر ایک متحدہ حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس میں تبروک میں قائم بین الااقومی طور پر تسلیم شدہ موجودہ حکومت اور طرابلس سے کام کرنے والی حریف حکومت دونوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔

اقوام متحدہ یورپین، افریقن یونین اور عرب لیگ سمیت دنیا کے 17 ممالک کے نمائندے لیبیا کے بحران کے حل کے ایک مجوزہ سمجھوتے پر بات چیت کے لیے روم میں ایک اجلاس میں شرکت کررہے ہیں جو بین الاقوامی برداری کی طرف سے لیبیا کے لیے طویل عرصے سے مطلوب امن سمجھوتے کے لیے حمایت اور عزم کا اظہار ہے۔

روم میں ہونے والے ان مذاکرات کی میزبانی امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری اور اطالوی وزیر خارجہ پاؤلو جینٹیلونی کررہے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ عہدیدار لیبیا کے حریف گروپوں کے نمائندوں سے بھی ملنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

لیبیا کی حریف حکومتیں متوقع طور پر ایک متحد ہ حکومت تشکیل کے ایک منصوبے پر بدھ کو مراکش میں دستخط کریں گی۔

اس منصوبے کے تحت 40 دن کے اندر ایک متحدہ حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس میں تبروک میں قائم بین الااقومی طور پر تسلیم شدہ موجودہ حکومت اور طرابلس سے کام کرنے والی حریف حکومت دونوں کے نمائندے شامل ہو گے۔

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے مارٹن کابلر نے جمعہ کو سلامتی کونسل کو بتایا کہ لیبیا کے شہری اس بات پر متفق ہیں کہ ان کا ملک "اب امن کے (قیام) کے لیے زیادہ دیر انتظارنہیں کر سکتا ہے"۔

" لیبیا کے عوام کے پاس ایک منفرد موقعہ ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ امن قائم کیا جائے۔ لیبیا کے عوام کے لیے اب اس بات کا امکان نہیں ہے کہ مزید مصائب اور مشکلات کا باعث بغیر انہیں دیگر مواقع ملیں گے"۔

انہوں نے انتہاپسند گروپ داعش اور دیگر انتہا پسند گروپوں کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا کو "بہت جلدی کرنی ہو گی" کیونکہ عسکریت پسند اپنے لیے علاقوں کا حصول چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG