رسائی کے لنکس

’میں 11برس تک دوزخ میں رہی ہوں۔ اب تمہارے جہنم کے دِن شروع ہو رہے ہیں‘: مشیل نائٹ

اُس شخص کو جس نے ریاست ِاوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں اپنے گھر میں 10 برس تک تین نوجوان خواتین کو قید رکھنے کا اقبال جرم کرلیا تھا، عدالت نے جرائم کی سنگینی کو پیش نظر رکھ کر، ضمانت کے بغیر عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

جمعرات کے روز ہونے والی سماعت کے دوران، جج مائیکل روسو نے کہا کہ ایریئل کاسترو بدسلوکی کا ہدف بننے والی خواتین سے کسی طور کوئی رابطہ نہیں رکھ سکتا، جِن میں اُن کی بیٹی بھی شامل ہے جو گھر میں قید کی گئی ایک خاتون کے ہاں پیدا ہوئی تھیں۔

سماعت کے دوران، سابق اسکول بس ڈرائیور نے نشانہ بننے والی خواتین سے معافی طلب کی، تاہم اُنھیں زد و کوب کرنے کے الزام کی تردید کی۔ کاسترو نے اپنی حرکات کا ذمہ دار جنسی خواہشات اور عریانیت پسندی کی عادات کو قرار دیا۔

اُن کے الفاظ میں، ’میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ لوگ مجھے ایک وحشی کے طور پر پیش کر رہے ہیں، میں ظالم نہیں ہوں۔ میں بیمار ہوں۔ میرے جنسی مسائل مجھ پر طاری رہے ہیں، اور میں غور و فکر سے عاری شخص ہوں‘۔

اُن کا ہدف بننے والی 32 برس کی خاتون، مشیل نائٹ جارحانہ انداز میں کمرہٴعدالت میں داخل ہوئیں۔ کاسترو سے مخاطب ہوتے ہوئے، مشیل نے کہا، ’ اب عمر بھر جہنم کی سزا بُھگتو‘۔

اُن کے بقول، ’میں 11برس تک دوزخ میں رہی ہوں۔ اب تمہارے جہنم کے دِن شروع ہو رہے ہیں‘۔

جمعرات کو سنائی جانے والی سزا سے قبل، 53 برس کے کاسترو نے وکلائے استغاثہ سے سمجھوتے کے تحت موت کی سزا کے بدلے باقی ماندہ زندگی قید کاٹنے اور 937 الزامات پر اقبال جرم کر لیا تھا۔

نائٹ نے کہا کہ کاسترو کو عمر قید ہی ہونی چاہیئے تھی کیونکہ موت کی سزا اُس کے لیے آسان موت ہوتی۔ اُنھوں نے کہا کہ 11برس کی قید و بند کے بعد انصاف ملنا ’سکون‘ کا باعث ہے۔

دو دیگر خواتین کے رشتہ داروں نے بھی سماعت کے دوران بیان حلفی ریکارڈ کرایا۔

کاسترو نے ایمندا بیری، گینا ڈی جیسس اور نائٹ کو اغوا کرکے، زنجیروں سے جکڑے رکھا اور بارہا زنا بی الجبر کا نشانہ بناتا رہا، جب مئی کے اوائل میں بیری گھر سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئیں۔ بعدازاں، پولیس نے چھاپہ مار کر باقی دو خواتین کو رہا کرا لیا۔

گھر کی قید کے دوران بیری نے ایک بیٹی کو جنم دیا، وہ اب چھ برس کی ہیں۔
XS
SM
MD
LG