رسائی کے لنکس

جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے وائس چیرمین نے اس بات کی تصدیق ایوانِ نمائندگان کی عمارت میں سماعت کے دوران کی۔ اُنھوں نے بتایا کہ زمین پر نصب کیے جانے والے یہ میزائل سنہ 1987 کے درمیانہ فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں کے معاہدے کی ’’روح اور مقاصد‘‘ کی خلاف ورزی ہے

امریکہ نے پہلی بار روس پر کھلے عام الزام لگایا ہے کہ اُس نے ہتھیاروں پر پابندی کے 30 سالہ سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کروز میزائل نصب کیے ہیں۔


جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے وائس چیرمین، جنرل پال سیلوا نے اس بات کی تصدیق ایوانِ نمائندگان کی عمارت میں سماعت کے دوران کی۔ اُنھوں نے بتایا کہ زمین پر نصب کیے جانے والے یہ میزائل سنہ 1987 کےدرمیانہ فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں کے معاہدے کی ’’روح اور مقاصد‘‘ کی خلاف ورزی ہے۔


سیلوا نے یہ بات بدھ کے روز کانگریس کی مسلح افواج کی کمیٹی کی سماعت کے دوران کہی، جو کہ امریکی فوج کی جانب سے اِن اطلاعات کی کھلے عام پہلی تصدیق ہے جو گذشتہ ماہ سامنے آئیں تھیں، جن میں کہا گیا تھا کہ روس نے پوشیدہ طور پر اِن میزائلوں کی تنصیب کی ہے۔


نیٹو


سیلوا نے تصدیق کی کہ تنصیب کے نتیجے میں ’’یورپ میں ہماری تمام تنصیبات کے لیے خدشات بڑھ گئے ہیں‘‘۔


اُنھوں نے مزید کہا کہ یہ روس کی جانب سے شمالی بحر اوقیانوس پار فوجی تنظیم (نیٹو) کے لیے خطرے کا باعث ہے۔


سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ 2014ء میں ’ایس ایس سی-8 ‘ کروز میزائل کا تجربہ کیا گیا تھا، جو اُس معاہدے کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت امریکہ اور روس نے طے کیا تھا کہ زمین پر درمیانہ فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نصب نہیں کیے جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG