رسائی کے لنکس

امریکی افغان پالیسی کی کامیابی کا دعویٰ قبل ازوقت ہے: ماہرین


امریکی افغان پالیسی کی کامیابی کا دعویٰ قبل ازوقت ہے: ماہرین

امریکی افغان پالیسی کی کامیابی کا دعویٰ قبل ازوقت ہے: ماہرین

واشنگٹن میں ماہرین صدر اوباما کی جانب سے افغانستان میں امریکی پالیسی کو کامیاب قرار دینے کے اعلان کو ابھی قبل از وقت قرار دے رہے ہیں ۔

صدر اوباما نے افغانستان کے لئے مزید تیس ہزار امریکی فوج بھیجنے کے اعلان کے ایک سال بعدگزشتہ ہفتے اپنی پاک افغان پالیسی کے دوبارہ جائزے پر مبنی رپورٹ کا اعلان کرتے ہوئے خطے میں امریکی پالیسی کو کارگر قرار دیا تھا ، لیکن یہ تسلیم کیا تھا کہ افغانستان میں حاصل ہونے والی کامیابیاں ابھی پائیدار نہیں ہیں ۔

صدر اوباما نے گزشتہ ہفتے افغانستان کے لئے اپنی پالیسی کے اعلان کے وقت پاک افغان خطے میں امریکی مشن کو مشکل اور نازک قرار دیا تھا لیکن کہا تھا کہ افغانستان میں امریکی پالیسی کارگر ثابت ہو رہی ہے۔ افغانستان کے لئے گزشتہ سال تیس ہزار مزید فوج بھیجنے کے اعلان کے بعد یہ پالیسی ریویو صدر اوباما نے اپنے اس وعدے کی بنیاد پر کیا تھا کہ وہ افغانستان میں کوئی ناکام حکمت عملی جاری رکھنے پر اصرار نہیں کریں گے ، جیساکہ بعض امریکی مبصرین کے مطابق سابق صدر بش نے عراق میں کیا تھا ۔ لیکن واشنگٹن کے مبصرین افغانستان کے بارے میں اوباما انتظامیہ کی پر امیدی کو قبل از وقت قرار دے رہے ہیں ۔

مائیکل او ہینلن واشنگٹن کے بروکنگز انسٹی ٹیوشن میں دفاعی امور کا تجزیہ کار ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ واقعتا ایک عبوری نظر ثانی تھی ۔ اس کے ذریعے پالیسی میں کچھ معمولی تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں لیکن کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کامیابی حاصل کرنا یا اس کا اندازہ لگانا آسان نہیں ہوگا ۔

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ فوجی حکمت عملی کا سارا مقصد طالبان کا زور توڑنا ، انہیں شکست دینا، ان کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا اور انہیں زیادہ آبادی والے اہم شہروں سے باہر رکھنا ہے ۔ اسی طرح ہمیں افغانستان کی فوج کی صلاحیت اس حد تک بڑھانی ہے کہ وہ طالبان سے نمٹ سکیں ۔

واشنگٹن میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایسا واقعی ہو سکے گا اور اگر ہاں تو کب تک ؟ لیکن صدر اوباما اگلے سال جولائی میں افغانستان سے امریکی فوج واپس بلانا شروع کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں اور انہوں نے نیٹو کے راہنماوں کے ساتھ 2014ء کے آخر تک افغانستان میں اپنی فوج کے جنگی کردار کے خاتمے کا ہدف مقرر کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے ۔

رچرڈ فونٹین واشنگٹن کے سینٹر فار اے نیو امیرکن سیکیورٹی کے دفاعی تجزیہ کار ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں لگتا کہ جولائی 2011ء تک ہمیں کوئی ایسی کامیابی مل جائے گی کہ ہم افغانستان سے کسی قابل ذکر تعداد میں اپنی فوج واپس نکال سکیں گے ۔ 2014ء تک ہمیں یہ معلوم ہو جائے گا کہ ہمیں اب تک کتنی کامیابی ملی اور کیا ہم اسے افغان اداروں کے حوالے کر سکتے ہیں یا کامیابی ممکن ہے بھی یا نہیں ۔ کسی بھی صورت میں ہمیں تب تک کچھ مشکل فیصلے کرنے ہونگے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان میں حاصل ہونے والی پیش رفت کی رفتار رک گئی یا ناکامیاں بڑھنے لگیں ۔ تو انہیں 2014ء سے پہلے ہی پتہ چلنا شروع ہو جائے گا ۔ آئندہ کچھ مہینوں میں امریکہ کی افغان پالیسی کا ایک بار پھر جائزہ لیا جائے گا جس کے تحت اگلے سال جولائی تک امریکی فوج کی واپسی کی ابتدائی رپورٹ مرتب کی جائے گی جبکہ ایسا دوسرا اور زیادہ تفصیلی جائزہ اگلے سال کے آخر میں پھر لیا جائے گا ۔

XS
SM
MD
LG