رسائی کے لنکس

برگڈہل کو اذیت و قید کی سزا دی جاتی تھی: فوجی ذرائع


فائل

فائل

فوج کے اُن کے ساتھی اِس بات پر سوالات اٹھا رہے ہیں آیا وہ کس طرح طالبان کے ہتھے چڑھے، اور یہ کہ وہ جون 2009ء میں اپنا یونٹ چھوڑ گئے تھے

پانچ مشتبہ طالبان دہشت گردوں کے بدلے رہا ہونے والے امریکی فوجی نے امریکی فوج کے اہل کاروں کو بتایا ہے کہ تقریباً پانچ برس کی قید کے دوران، قید کرنے والوں نے اُنھیں کبھی اذیت دی، کبھی مارا پیٹا تو کبھی قید کیے رکھا۔

اتوار کو امریکی ذرائع نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ آرمی سارجنٹ بووے برگڈہل کے موجب افغانستان میں قید کے دوران اُنھوں نے دو مرتبہ بھاگنے کی کوشش بھی کی تھی، جس کی پاداش میں اُنھیں سخت سزا جھیلنی پڑی۔

برگڈہل کو ایک ہفتہ قبل کیوبا کےگوانتانامو بے کے امریکی فوجی اڈے پر پانچ قیدیوں کے بدلے طالبان سے رہائی دلائی گئی۔ اِس وقت وہ جرمنی میں زیرِ علاج ہیں۔

ابتدائی طور پر برگڈہل کی رہائی پر امریکہ بھر میں خوشی کا اظہار کیا گیا تھا، تاہم اب یہ متنازع معاملہ بن چکا ہے۔

فوج کے اُن کے ساتھی اِس بات پر سوالات اٹھا رہے ہیں آیا وہ کس طرح طالبان کے ہتھے چڑھے، اور یہ کہ وہ جون 2009ء میں اپنا یونٹ چھوڑ گئے تھے۔

کچھ ناقدین نے طالبان قیدیوں کی رہائی کی مذمت کی ہے، اس اندیشے کے باعث کہ بالآخر ہو امریکہ کے خلاف نئے حملے کر سکتے ہیں۔

قانون کے مطابق، گوانتانامو بے کے قیدیوں کی رہائی سے کم از کم30 دِن پہلے، امریکی کانگریس کو مطلع کرنا چاہیئے تھا، جن قوائد کی پاسداری نہ کرنے پر امریکی صدر براک اوباما کو ناقدین کی طرف سے نکتہ چینی کا سامنا ہے۔

برگڈہل کی امریکہ واپسی کے نظام الاوقات کا ابھی اعلان نہیں ہوا۔ اپنی رہائی کے بعد اُنھوں نے اپنے والدین سے اب تک بات نہیں کی۔

امریکہ کے وفاقی تفتیشی ادارے کا کہنا ہے کہ وہ برگڈہل کے والدین کو موصول ہونے والی برہمی پر مشتمل ٹیلی فون کالوں اور نفرت پر مبنی خط و کتابت کی چھان بین کر رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG