رسائی کے لنکس

امریکی فوجیوں پر افغانوں کو ”تفریحاََ“ قتل کرنے کا الزام


فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکہ کے ایک بااثر اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوجیوں کے ایک گروپ کو افغان شہریوں کو بغیر سوچے سمجھے نشانہ بنا کر قتل کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔

اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق فوج کی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ اِن ”آوارہ“ فوجیوں کا تعلق سیکنڈ اِنفنٹری ڈویژن کے فِفتھ سٹرائیک کامبیٹ بریگیڈ کی ایک پلاٹون سے ہے جنھوں نے موت کے اس کھیل کا آغاز جنوری میں اس وقت کیا جب لال محمد کلے نامی گاؤں میں ایک افغان مرد اُن میں سے ایک فوجی کی طرف بڑھا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ فوجی نے قریب آنے پر افغان باشندے کی طرف اچانک دستی بم پھینک کر یہ تاثر پیدا کیا کہ امریکی فوجیوں پر حملہ کردیا گیا ہے۔ اس کے فوراََ بعد ایک دوسر ے فوجی نے فائرنگ کر کے اُس افغان شخص کو ہلاک کردیا۔

جنوری میں کیے گئے اس حملے کے بعد ایک ماہ تک افغان شہریوں کو ہلاک کرنے کا یہ کھیل جاری رہا۔ اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق 2001 ء میں افغانستان پر امریکہ کی قیادت میں شروع ہونے والی یلغار کے بعد امریکی فوجیوں پر لگنے والے حالیہ الزامات” خوفناک ترین“ ہیں۔

ان میں مُردوں کے جسموں کے ٹکڑے کرنے، اُن کی تصاویر بنانے، کھوپڑیوں اور انسانی ہڈیوں کو ذخیرہ کرنے کے الزامات شامل ہیں۔

اخبار کے مطابق امریکی فوج کے ”آوارہ “ فوجیوں میں سے پانچ پر قندھار صوبے میں تین افراد کو قتل کرنے کا الزام ہے جب کہ سات دوسرے فوجی بھی اس واقعہ میں کردار ادا کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق امریکی فوج نے ایک فوجی کے باپ کی طرف سے قتل کے ان الزامات کی تحقیقات کرنے کے باربار کیے گئے مطالبات کو نظر انداز کیا۔ ایک فوجی پر، جس نے اعلیٰ حکام کو موت کے اس کھیل کی اطلاع دی تھی، اپنی پلا ٹون کے فوجیوں کی طرف سے اجتماعی حملہ بھی کیا گیا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ فوجی عدالت کی دستاویزات کے جائزے اور اس واقعہ کی تفتیش سے آگاہی رکھنے والے افراد سے کی گئی گفتگوسے معلوم ہوا ہے کہ” تفریح “کے لیے شروع کیے گئے موت کے اس کھیل میں ملوث فوجی منشیات اور شراب نوشی کے شوقین تھے ۔

XS
SM
MD
LG