رسائی کے لنکس

’2014ء کے بعد بھی امریکہ افغانستان میں رہ سکتا ہے‘

  • حسن سید

’2014ء کے بعد بھی امریکہ افغانستان میں رہ سکتا ہے‘

’2014ء کے بعد بھی امریکہ افغانستان میں رہ سکتا ہے‘

امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر افغان عوام چاہیں تو ان کا ملک 2014کے بعد بھی یہاں رہتے ہوئے اپنی حمایت اور مدد جاری رکھ سکتا ہے۔

کابل کے غیر اعلانیہ دور ے کے دوران منگل کو افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد مشترکہ نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں حکومت کرنے کے لیے نہیں آیا لیکن اگر”افغان چاہیں تو 2014ء میں سلامتی کی ذمے داری مقامی فورسز کو منتقل کرنے کے بعد بھی امریکہ یہاں رہ سکتا ہے“۔

جو بائیڈن نے افغانستان کے ساتھ طویل المدتی دوستی اور اس کے عوام کی حمایت کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کی ترجیح افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت کے ذریعے سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل بنانا ہے تاکہ وہ افغانستان کو ایک آزاد اور مستحکم ملک کی صورت میں دیکھ سکے۔

امریکی نائب صدر نے اس سے قبل ایک فوجی تربیتی مرکز کا دورہ کیا اور امریکہ کی طر ف سے افغان افواج کی تربیت کے پروگرام کا جائزہ لیا۔

افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کا عمل اس سال کے وسط میں شروع ہوکر 2014ء تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

جوبائیڈن افغانستان کے بعد اسلام آباد کا دورہ بھی کریں گے۔ اس بارے میں پاکستانی وزیرمملکت برائے خارجہ امور ملک عماد خان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ پاک امریکہ تعلقات کو مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک امریکہ تعلقات میں صرف سلامتی کے امور کو ہی اہمیت حاصل نہیں ہے بلکہ توانائی اور بنیادی ڈھانچے سمیت کئی شعبے ایسے ہیں جن میں دو طرفہ تعاون فروغ پاتا دکھائی دے رہا ہے۔

ملک عماد کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام امریکی رہنما کو خطے میں استحکام اور سلامتی کے فروغ کے سلسلے میں پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کریں گے۔

XS
SM
MD
LG