رسائی کے لنکس

امریکی فوجیں اپنی کارروائیاں افغانستان تک محدود رکھیں: صدر زرداری کی کانگریس کے وفد سے بات چیت


صدر آصف علی زرداری

صدر آصف علی زرداری


سنیٹر جان مک کین کی سربراہی میں چار رکنی امریکی کانگریس کے وفد کی صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی، جس کے بعد جمعرات کو ایوانِ صدر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سربراہِ مملکت نے امریکی مالی امداد کو سراہتے ہوئے اِس موقف کو دہرایا کہ یہ امداد حکومت کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کو فراہم کی جائے، تاکہ مقامی ترجیحات کے مطابق استعمال میں لایا جا سکے۔

بیان کے مطابق صدر زرداری نے امریکی وفد کو بتایا کہ گذشتہ آٹھ سالوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 35ارب ڈالر اقتصادی قیمت چُکانا پڑی ہے جِس نے اُن کے ملک کی معیشت کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔

اُنھوں نے اِس موقع پر زور دیا کہ انسدادِ دہشت گردی کی لڑائی میں قائم مشترکہ فنڈ سے پاکستان کو واجب الادا ایک ارب ڈالر فوری طور پر ادا کیے جائیں۔

افغانستان کے لیے اوباما انتظامیہ کی نئی حکمتِ عملی کا ذکر کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پڑوسی ملک افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے۔ تاہم، امریکہ کو اُن کے ملک کے قومی مفادات کے بارے میں حساس رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنی کارروائیاں سرحد کے اُس پار تک محدود رکھنی چاہئیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی سر زمین پر امریکی میزائل حملوں سے اُن کے ملک کی خودمختاری متاثر ہوتی ہے۔ تشدد پسندی کےخلاف لڑائی میں قومی اتفاقِ رائے پر منفی اثرات کا باعث بن رہے ہیں۔

اِس موقع پر صدر زرداری نے امریکی وفد پر زور دیا کہ وہ امریکی پالیسی سازوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اُنھیں قائل کریں کہ ڈرون ٹیکنالوجی پاکستان کو منتقل کی جائے، تاکہ مقامی سکیورٹی فورسز اِس صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے خود عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کر سکیں۔

تاہم یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اسلام آباد آمد سے قبل امریکی کانگریس کے وفد نے افغانستان کا مختصر دورہ کیا جہاں کابل میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے سنیٹر مک کین نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ جیتنے کی کوششوں میں ڈرون طیاروں کی کارروائیاں مجموعی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں اور یہ بہت مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG