رسائی کے لنکس

چک ہیگل نے کہا کہ انھوں نے حامد کرزئی سے براہ راست اور واضح طور پر کہا ہے کہ یہ بات سچ نہیں ہے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ یک طرفہ طور پر کام کر رہا ہے اور یہ کہ امن اور سیاسی تصفیے کے کسی بھی عمل کی سربراہی افغان کریں گے۔

امریکہ کے وزیر دفاع چک ہیگل کا افغانستان کا پہلا دورہ افغانی صدر حامد کرزئی کی متنازع تقریر اور سلامتی خدشات کی وجہ سے متاثر ہوا اور پہلے سے طے مشترکہ نیوز کانفرنس بھی منسوخ کر دی گئی۔

حکام نے سکیورٹی کے خداشات کی تفصیل نہیں بتائی لیکن کابل اور خوست میں ہونے والے خودکش بم دھماکوں میں 19 افراد ہلاک ہو گئے تھے، کابل میں افغان وزارت دفاع کے قریب خودکش دھماکا اس وقت کیا گیا جب چک ہیگل افغان دارالحکومت کابل ہی میں موجود تھے۔

اس دھماکے کے ایک روز بعد افغان صدر حامد کرزئی نے اپنی تقریر میں الزام لگایا تھا کہ طالبان امریکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور کیوں کہ ان دھماکوں کا مقصد افغانیوں کو ڈرانا ہے اور یہ تاثر دینا ہے کہ وہ 2014ء کے اختتام کے بعد بھی ملک میں غیر ملکی افواج کو دیکھنا چاہتے ہیں۔

اپنے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے چک ہیگل نے کہا کہ انھوں نے حامد کرزئی سے براہ راست اور واضح طور پر کہا ہے کہ یہ بات سچ نہیں ہے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ یک طرفہ طور پر کام کر رہا ہے اور یہ کہ امن اور سیاسی تصفیے کے کسی بھی عمل کی سربراہی افغان کریں گے۔

افغانستان میں امریکہ کے اعلیٰ کمانڈر جوزف ڈنفورڈ نے افغان صدر کی تقریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے پچھلے بارہ سالوں میں ’’بہت شدید جنگ لڑی ہے اور ہمارا بہت خون بہا۔‘‘

وزیر دفاع چک ہیگل نے افغانستان کا یہ دورہ امریکہ کے زیرانتظام جیل افغان حکام کے حوالے کرنے اور وہاں سے اپنی افواج کے انخلاء کی رفتار کا جائزہ لینے کے لیے کیا تھا۔

لیکن گزشتہ ہفتہ کے روز بگرام جیل کی منتقلی کی تقریب منسوخ کر دی گئی۔
گزشتہ ماہ چک ہیگل کے پیش رو لیون پنیٹا نے کہا تھا کہ تھا نیٹو کے اتحادی ممالک 2014ء کے اختتام کے بعد بھی افغانستان میں 8 سے 12 ہزار فوجی رکھنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

اس وقت افغانستان میں لگ بھگ ایک لاکھ نیٹو فوجی تعینات ہیں۔
XS
SM
MD
LG