رسائی کے لنکس

افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے اعلان پر جاری ایک بحث

  • ال پیسن

صدر اوباما کے اس منصوبے سے کہ آئندہ جولائی میں افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی شروع ہو جائے گی ، علاقے میں کچھ تشویش پیدا ہوئی ہے۔ اس بارے میں کچھ الجھن بھی پائی جاتی ہے کہ اس ڈیڈ لائن کا مطلب کیا ہے ۔

صدر اوباما نےجب اپنا عہدہ سنبھالا تو ووٹروں میں یہ احساس عام تھا کہ پچھلی انتظامیہ نے عراق اور افغانستان کی جنگوں میں اچھی کارکردگی نہیں دکھائی۔ سینیٹر کی حیثیت سے مسٹر اوباما نے عراق کی جنگ کی سخت مخالفت کی تھی کیوں کہ ان کا اور ان کی ڈیموکریٹک پارٹی کا خیال تھا کہ اس جنگ کی وجہ سے افغانستان کی جنگ کے لیے پوری طرح وسائل نہیں مل رہے ہیں، جب کہ یہی وہ ملک ہے جہاں سے 11 ستمبر کے حملے کیے گئے تھے۔ گذشتہ سال مارچ میں، اپنے عہدہ سنبھالنے کے صرف دو مہینے بعد، صدر نے افغانستان کے لیے اپنی حکمت عملی کا اعلان کیا جس کا مقصد القاعدہ کو درہم برہم کرنا، اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور شکست دینا ، اور اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ اس کے سابق افغان میزبان، یعنی طالبان دوبارہ بر سرِ اقتدار نہ آنے پائیں اور دہشت گردوں کے لیے ایک بار پھر محفوظ پناہ گاہ قائم نہ ہو۔ انھوں نے ابتدائی طور پر مزید 17,000امریکی فوجی افغانستان بھیجنے کا حکم دیا۔

دسمبر میں انھوں نے اپنی حکمت عملی پرنظر ثانی کی اور مزید 33,000 امریکی فوجی اور اتحادی ملکوں سے تقریباً 10,000 فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے بغاوت کو کچلنے کی اسی قسم کی حکمت عملی اختیار کرنے کا حکم دیا جس کی ذریعے عراق میں پیش رفت ہوئی تھی ۔ لیکن صدر نے یہ بات بھی واضح کر دی کہ یہ اضافی فوجیں غیر معینہ مدت کے لیے نہیں بھیجی جا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا’’

ان مزید امریکی اور بین الاقوامی فوجیوں کی مدد سے ہم ذمہ داری تیزی سے افغان فورسز کو منتقل کر سکیں گے اور اس طرح جولائی 2011میں ہم افغانستان سے اپنی فوجوں کو نکالنے کی ابتدا کر سکیں گے۔‘‘

مقصد یہ ہے کہ طالبان کی طاقت کم کر دی جائے اور افغان حکومت کی فورسز کی تعداد اور ان کی استعداد میں اضافہ کر دیا جائے تا کہ امریکی فوجیں ذمہ داری منتقل کرنا اور واپس جانا شروع کر سکیں۔ توقع ہے کہ یہ عمل بتدریج ہوگا۔لیکن جولائی 2011 کی تاریخ مقرر کرنے سے علاقے میں یہ تشویش پیدا ہوئی ہے کہ اس طرح افغانستان میں امریکہ کا رول ختم ہو جائے گا۔ سرکاری عہدے دار مسلسل یہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس غلط فہمی کو دور کریں۔ وہ توجہ دلاتے ہیں کہ یہ تاریخ ایک عمل شروع ہونے کی ابتدا ہے۔ فوجوں کی تعداد اور ان کی واپسی کی رفتار کا تعین اس بات سے ہو گا کہ دو بنیادی مقاصد میں، یعنی باغیوں کو شکست دینے اور افغان فورسز کی تعمیر میں کتنی پیش رفت ہوئی ہے ۔پھر بھی کچھ الجھن باقی ہے ۔

بروکنگزانسٹی ٹیوٹشن کے Michael O’Hanlon کہتے ہیں’’میں سمجھتا ہوں کہ بالکل واضح پیغام یہ ہے کہ جولائی میں واپسی کی ابتدا ہو گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ واپسی کا لفظ بھی شاید صحیح نہیں ہے ۔ یہ شاید واپسی کی ابتدا نہیں ہے بلکہ بتدریج یہ طے کرنا ہے کہ کون اس پورے کام کا کون سا حصہ انجام دے گا۔‘‘

O’Hanlon کہتے ہیں کہ اگر اس طرح تو یہ ممکن ہے کہ ہم اپنی فوجوں کی تعداد کم کرنے کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ ہمیں واپسی کی کوئی جلدی نہیں ہے۔

ہیریٹج فاؤنڈیشن کی لی سا کرٹِس کہتی ہیں کہ جولائی 2011 کی تاریخ مقرر کرنا غلطی تھی ، اگرچہ صدر اوباما نے کہا ہے کہ یہ تاریخ واپسی کی محض ابتدا ہے۔’’گذشتہ دسمبر میں انھوں نے یہی کہا تھا، لیکن اس سے علاقے میں جو مطلب لیا گیا وہ یہ تھا کہ یہ واپسی کی اسٹریٹجی ہے اور امریکہ واپس جانے کی تیاری کر رہا ہے ۔‘‘

صدر کے بیان کے حامی کہتے ہیں کہ اس طرح امریکہ اور بین الاقوامی اداروں اور افغان حکومت پر دباؤ پڑا کہ وہ تیزی سے سکیورٹی سے لے کر انتظام و انصرام اور اقتصادی ترقی کے پروگراموں پر تیزی سے عمل کریں۔ لیکن لی سا کرٹِس کہتی ہیں کہ اس دباؤ کا الٹا اثر ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ایسے اہداف اور توقعات وابستہ کر لی گئی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ایک سال سے بھی کم عرصے میں، جب کہ تمام فوجی اور بین الاقوامی سویلین کارکن ابھی پہنچے ہی ہیں، عجلت میں واپسی شروع کرنا غلط ہو گا۔وہ کہتی ہیں کہ امریکہ کو کسی ڈیڈ لائن کی نہیں بلکہ ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس سے فتح حاصل کی جا سکے۔

امریکی عہدے داروں کا خیال ہے کہ وہ آئندہ جولائی سے کافی پہلے، پیش رفت کا مظاہرہ کر سکیں گے۔ وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے امریکی سینٹ کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا’’ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس موزوں وسائل موجود ہیں ۔ ہماری حکمت عملی صحیح ہے اور ہمارے پاس اچھی قیادت موجود ہے ۔ ہمارے تمام اتحادیوں اور شراکت داروں کا خیا ل ہے کہ حالات صحیح سمت میں جا رہے ہیں اور ہم اس سال کے آخر تک واضح پیش رفت کا مظاہرہ کر سکیں گے۔‘‘

سال کے آخر میں صدر اوباما حکمت عملی کا جائزہ لیتے ہیں۔ بلکہ توقع ہے کہ نیٹو لیڈرو ں کی 20 نومبر کی سربراہ کانفرنس میں ، پیش رفت کی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ لیکن عہدے دار کہتے ہیں کہ جولائی میں کتنے فوجیوں کو منتقل کیا جائے گا اور فوجوں کی واپسی کی رفتار کیا ہوگی، اس کا فیصلہ ڈیڈ لائن آنے کے کچھ ہی دن پہلے کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG