رسائی کے لنکس

افغانستان سے 33 ہزار امریکی فوجیوں کی واپسی مکمل


امریکی وزیردفاع لیون پنیٹا

امریکی وزیردفاع لیون پنیٹا

وزیر دفاع پنیٹا نے کہا کہ افغانستان بھیجے گئے اضافی فوجی اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد واپس آئے لیکن انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

امریکہ کے وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ تین سال قبل صدر براک اوباما کی طرف سے افغانستان میں امن و استحکام کی کوششوں کے سلسلے میں بھیجے گئے 33 ہزار اضافی امریکی فوجیوں کی واپسی کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔

اُنھوں نے یہ اعلان جمعہ کو نیوزی لینڈ کے وزیر دفاع کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ اب جب کہ افغانستان کے بیشتر حصوں میں سلامتی کی ذمہ داریوں کی قیادت افغانوں کو منتقل کردی گئی ہے وہاں سے 2014 ء کے اختتام تک تمام امریکی لڑاکا افواج کے انخلاء کے منصوبے پر بغیر کسی تبدیلی کے عملدرآمد جاری ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ افغانستان میں بین الاقوامی اتحادی افواج کے امریکی کمانڈر جنرل جان ایلن نے انھیں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں تعینات باقی امریکی فوجی اپنا مشن مکمل کرنے کے لیے کافی ہیں۔

اضافی فوجیوں کے انخلاء کے بعد افغانستان میں اب 68 ہزار امریکی فوجی رہ گئے ہیں۔ لیکن حالیہ مہینوں میں افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ’’اندرونی حملوں‘‘ میں غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ امریکہ اور نیٹو کے لیے باعث تشویش بنا ہوا ہے۔

وزیر دفاع پنیٹا نے کہا کہ افغانستان بھیجے گئے اضافی فوجی اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد واپس آئے لیکن انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

جاپان اور چین کے بعد لیون پنیٹا جمعہ کو نیوزی لینڈ پہنچے تھے جہاں انھوں نے افغان جنگ میں اس کی مسلح افواج کی شرکت اور کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ پنیٹا تیس سال میں نیوزی لینڈ کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی وزیر دفاع ہیں۔
XS
SM
MD
LG