رسائی کے لنکس

طویل ترین افغان جنگ امریکی خارجہ پالیسی کے لیے چیلنج

  • آندرے نیسنیرا

صدارت کی دوسری مدت میں افغانستان میں بساطِ جنگ کو سمیٹنا صدر براک اوباما کے لیے خارجہ پالیسی کا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔

امریکی فوجیں افغانستان میں 11 سال سے زیادہ عرصہ گزار چکی ہیں، یعنی 1980ء کی دہائی میں سوویت فوجوں کی نو برس کی موجودگی سے بھی زیادہ۔

افغانستان میں امریکی فوجوں کی تعداد تقریباً 68,000 ہے۔ موجودہ منصوبہ یہ ہے کہ 2014ء کے آخر تک افغانستان سے تمام امریکی اور بین الااقوامی اتحاد کے لڑاکا فوجی نکال لیے جائیں، اور تمام فوجی اور سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغانوں کے حوالے کر دی جائیں۔

لیکن اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر، جان بولٹن کا خیال ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز اس قابل نہیں ہوں گی کہ امریکیوں سے ذمہ داری لے سکیں اور امریکی فوجوں کے نکل جانےکے بعد، وہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں مایوس ہیں۔

’’2014ء میں امریکی فوجوں کے واقعی نکل آنے سے، یہ امکان پیدا ہو جاتا ہے کہ طالبان ایک بار پھر افغانستان پر کنٹرول حاصل کر لیں گے۔ اور اگر میں پیشگوئی کروں تو میں یہ کہوں گا کہ سب سے زیادہ امکان اسی بات کا ہے۔ امریکہ کے نقطۂ نظر سے یہ انتہائی منفی نتیجہ ہو گا۔ یہ تصور کہ ہم افغانستان سے واپس نکل آئیں گے، اگرچہ یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ اس کے نتیجے میں طالبان/القاعدہ کو اقتدار واپس مل جائے گا، اور اس کی وجہ سے امریکہ کے لیے اور دوسرے ملکوں کے لیے جو خطرات پیدا ہوں گے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک قسم کی کور چشمی ہے۔‘‘

امریکی اور افغان عہدے دار آج کل ان امریکی فوجوں کی تعداد کے بارے میں مذاکرات کر رہے ہیں جو 2014ء کے بعد افغانستان میں موجود رہیں گی۔ توقع ہے کہ یہ تعداد موجودہ فوجوں کے مقابلے میں بہت کم ہو گی۔

سابق وزیرِ دفاع ولیم کوہن کہتے ہیں کہ افغانستان میں چھوٹی سی بین الاقوامی فورس ضرور موجود رہنی چاہیئے۔

’’یہ کام صرف امریکہ پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ بہت سے ملکوں کو یہ احساس ہونا چاہیئے کہ یہ بات دنیا کے مفاد میں ہے کہ افغانستان میں استحکام باقی رہے یا وہاں استحکام قائم کیا جائے۔ اگر ہم وہاں سے چلے جاتے ہیں، اور بقیہ سب ملک بھی چلے جاتے ہیں،تو یہ کوئی اچھی صورتِ حال نہیں ہو گی۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ افغانستان میں استحکام کی فکر صرف امریکہ کو ہی ہو۔ اس کے لیے بین الاقوامی فورس ضروری ہو گی۔‘‘

برسوں سے، امریکہ اور دوسرے مغربی ملک افغان صدر حامد کرزئی سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ کرپشن کے خلاف جنگ کریں۔

لیکن سفیر جان بولٹن سمیت، بہت سے سابق امریکی عہدے دار کہتے ہیں کہ رشوت کو جڑ سے ختم کرنا بڑا اعلیٰ مقصد تھا لیکن مسٹر کرزئی اسے حاصل نہیں کر سکے۔

’’اگرچہ ہم چاہیں گے کہ افغانستان سے کرپشن ختم ہو جائے، لیکن امریکہ کے لیے کرزئی کی حکومت میں یا کسی اور کی حکومت میں، مختصر سے عرصے میں اس مقصد کو حاصل کرنا حقیقت کے خلاف ہے۔ افغانستان میں کرپشن موجود ہے اور افغانوں کو خود یہ طے کرنا ہو گا کہ وہ اس مسئلے سے کیسے نمٹیں گے۔ ہم نے افغانستان کی حکومت سے جو غیر حقیقی توقعات وابستہ کر لی تھیں، یہ ان کا نتیجہ ہے۔‘‘

قومی سلامتی کے مشیر، ایئر فورس کے ریٹائرڈ جنرل برنٹ سکاؤکروفٹ کہتے ہیں کہ امریکہ نے افغانستان اور عراق سے جو توقعات وابستہ کر لی تھیں، وہ غیر حقیقی تھیں۔

’’ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم مختصر سے عرصے کے لیے کہیں جائیں، اور وہاں کے معاشروں کی تشکیلِ نو کر دیں۔ ہم نے کئی بار ایسا کرنے کی کوشش کی ہے، اور سیدھی بات یہ ہے کہ یہ ہمارے بس کی بات نہیں۔ اب ہم کسی دوسرے ملک میں کوئی کارروائی کرنے کے بارے میں سوچیں، تو ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیئے کہ ہم کیا حاصل کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے۔ عراق اور افغانستان، دونوں ملکوں میں، ہمارے کچھ بڑے اعلیٰ و ارفع خیالات تھے کہ ہم ان کے معاشروں کو تبدیل کریں گے اور جمہورتیں لائیں گے۔ لیکن یہ کام راتوں رات نہیں ہو سکتا ۔ اور اس کے لیے جس عزم اور جس جوش و جذبے کی ضرورت ہے، اسے ہم لمبے عرصے تک قائم نہیں رکھ سکتے۔ لہٰذا ہمیں اپنی آرزوؤں اور امنگوں کو لگام دینی چاہیئے۔‘‘

جنرل سکاؤکروفٹ کہتے ہیں کہ امریکہ میں جنگ کے بارے میں ایک تھکن کا سا احساس پھیلا ہوا ہے۔

’’میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان کی جنگ، اور عراق کی لڑائی سے، یہ خیال راسخ ہو گیا ہے کہ ہمیں اب دوسرے ملکوں میں الجھنا نہیں چاہیئے اور وہاں سے نکل آنا چاہیئے۔ نفسیاتی اعتبار سے، یہ رویہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مستقبل کے بارے میں، میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن ایک حد سے دوسری حد کی طرف جانا خطرناک ہوتا ہے۔‘‘

ماہرین کہتے ہیں کہ یورپ میں بھی جنگ سے اکتاہٹ کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ان حالات میں، ایک چھوٹی سی بین الاقوامی فوج جمع کرنا مشکل ہو گا جو اس فوج کی جگہ لے سکے جو 2014ء کے آخر تک افغانستان میں موجود رہے گی۔
XS
SM
MD
LG