رسائی کے لنکس

امریکہ، عرب دنیا اور افریقہ میں خفیہ ڈرون مراکز بنا رہا ہے، رپورٹ


امریکہ، عرب دنیا اور افریقہ میں خفیہ ڈرون مراکز بنا رہا ہے، رپورٹ

امریکہ، عرب دنیا اور افریقہ میں خفیہ ڈرون مراکز بنا رہا ہے، رپورٹ

ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ مشرقی افریقہ اور جزیرہ نما عرب میں اپنے خفیہ ڈرون پروگرام کو توسیع دے رہا ہے جس کا مقصد یمن اور صومالیہ میں موجود القاعدہ سے متعلق دہشت گردوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنا اور انہیں نشانہ بنانا ہے۔

اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' نے امریکی محکمہ دفاع کے عہدیداران کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے افریقی ملک ایتھوپیا میں ڈرونز کی تعیناتی کے لیے ایک فوجی تنصیب قائم کی جارہی ہے جہاں سے بغیر پائلٹ کے یہ طیارے زیادہ آسانی کے ساتھ پڑوسی ملک صومالیہ میں سرگرم 'الشباب' نامی دہشت گرد تنظیم کے ارکان کو نشانہ بنا سکیں گے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ نے بحیرہ ہند میں جزیرہ نما ملک 'سیچی لیز' میں قائم ڈرون طیاروں کے ایک مرکزکو بھی دوبارہ فعال کردیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مرکز پہ تعینات ڈرون طیاروں کی صومالیہ تک آزمائشی پروازوں کے بعد وہاں تعینات 'ہنٹر کلر' نامی ڈرونز نے رواں ماہ سے اپنے آپریشنز کا آغاز کردیا ہے۔

اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ان مراکز کے علاوہ امریکی خفیہ ایجنسی 'سی آئی اے' جزیرہ نما عرب کے کسی نامعلوم مقام پر بھی ڈرون طیاروں کے لیے ایک ہوائی اڈہ تعمیر کر رہی ہے جہاں سے 'القاعدہ ان عریبین پینی سولا' نامی تنظیم کو نشانہ بنایا جائے گا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یمن میں قائم یہ تنظیم القاعدہ کی سب سے فعال شاخ ہے اور امریکی مفادات پر حملوں کی کئی مبینہ کوششوں میں ملوث رہی ہے۔

اس حوالے سےپہلے بھی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں کہ جبوتی میں قائم امریکی تنصیبات سے اڑنے والے طیارے یمن اور صومالیہ کی فضائی حدود میں پروازیں کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ یقین کیا جاتا ہے کہ امریکی افواج بغیر پائلٹ کے ان طیاروں کو افغانستان، پاکستان، عراق اور لیبیا میں بھی استعمال کرتی رہی ہیں۔

امریکی حکام نے اس سے قبل 'سیچی لیز' کی تنصیب پر ڈرون طیاروں کی موجودگی کی تصدیق کی تھی تاہم انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ نگران طیارے ہیں جنہیں خطے میں سرگرم بحری قزاقوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

تاہم 'وال اسٹریٹ جنرل' نے خبر دی تھی کہ مذکورہ اڈے پر 'ایم کیو-9' ساختہ 'رِیپر ڈرونز' تعینات کیے جارہے ہیں جو جاسوسی کرنے کے ساتھ ساتھ حملہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ 'وائٹ ہاؤس' نے اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کی ہے۔

قبل ازیں رواں ماہ کے آغاز پر افریقہ میں امریکی فوجی آپریشنز کے کمانڈر جنرل کارٹر ہیم نے دعویٰ کیا تھا کہ افریقہ کی تین دہشت گرد تنظیمیں خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہی ہیں۔

جنرل کارٹر کے بقول صومالی تنظیم 'الشباب'، الجیریا کی 'القاعدہ اِن اسلامک مغرب' اور نائجیریا کی 'بوکو حرام' نے اتفاق کیا ہے کہ وہ خطے میں مغربی خصوصاً امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے تربیت اور کارروائیوں میں تعاون کریں گی۔

XS
SM
MD
LG