رسائی کے لنکس

سہ روزہ امریکہ، افریقہ سربراہ اجلاس، افتتاح پیر سے



گنی کے وزیر اعظم، محمد سعید ففانہ

گنی کے وزیر اعظم، محمد سعید ففانہ

اجلاس کا عنوان ’اگلی نسل کے لیے سرمایہ کاری‘ ہوگا؛ اور ملاقاتوں کا مقصد مشترکہ مفادات کی نشاندہی کرناہے۔ یہ مقصد تبھی پورا ہوگا جب براعظم کے نوجوانوں کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے، جن میں صحتِ عامہ، تعلیم اور روزگار کے مقام ہی پر مواقع میسر آنا شامل ہے

پیر کے دِن، تین سے چھ اگست تک، واشنگٹن میں امریکہ اور افریقی قائدین کا ایک سہ روزہ سربراہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جس میں توقع ہے کہ 50 سے زائد افریقی ممالک کے سربراہان شرکت کریں گے۔

افریقہ کے چار ملک ایسے ہیں، جن کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ریکارڈ کے پیش نظر، اُنھیں اِس اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا۔ وہ ہیں: اریٹریا، زمبابوے، سوڈان اور جمہوریہٴوسطی افریقہ۔

انتظامیہ کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ اجلاس میں معاشی فروغ پاتے ہوئے اِس براعظم کےمواقع اور مستقبل کو زیرِ غور لایا جائے گا، جب کہ اِن سوالات پر بات چیت ہوگی، آیا امریکہ کس طرح قریبی ساجھے دار بن سکتا ہے۔

اجلاس کا عنوان ’اگلی نسل کے لیے سرمایہ کاری‘ ہوگا۔ سربراہ ملاقوں کا مقصد مشترکہ مفادات کی نشاندہی کرنا ہے، اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب براعظم کے نوجوانوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے قدم بڑھایا جائے، جن میں صحتِ عامہ، تعلیم، اور روزگار کے مقام پر مواقع میسر ہونا شامل ہوں گے۔

ایسے وقت جب جمہوریہٴوسطی افریقہ اور سوڈان، اور مشرقی اور مغربی افریقی ممالک سخت گیر اسلام پسندوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے نبردآما ہیں، پہلا ہدف یہ ہوگا کہ ترقی کے حصول کے لیے درکار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔

سربراہ اجلاس کے شرکا تشدد کے خاتمے اور علاقائی اور داخلی سلامتی کو یقینی بنانے کے معاملے کو زیر بحث لائیں گے۔

جوزف سیگل، واشنگٹن ڈی سی میں ’نیشنل ڈفنس یونیورسٹی‘ میں ’افریکن سینٹر فور اسٹرٹجک اسٹڈیز‘ میں تحقیقی کام کے سربراہ ہیں۔ بقول اُن کے، ’اِس کاوش کےحوالے سے، قومی افواج میں اصلاحات کا معاملہ شامل ہوگا‘۔

اُن کے بقول، یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ یہ ایک چیلنج کا درجہ رکھتی ہے، جس کا عمومی طور پر ایک حصہ افریقہ کی پولیس اور فوج کا معاملہ ہے جو انتہائی پیشہ ور درجے کی نہیں ہوتیں؛ جس کے باعث، نامناسب اور تلخ حقیقتیں سامنے آئیں گی، خصوصی طور پر جب داخلی سلامتی کے خطرات پر گفتگو ہوگی، جس میں بے گناہ تماشائیوں کی ہلاکتیں واقع ہونے کے معاملات شامل ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ، ’اِس کے باعث، جہاں مقامی آبادی نظرانداز ہوتی ہے، وہاں، مزید شکایات جنم لیتی ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ صدر اوباما اور دیگر سربراہان مملکت کے لیے یہ ایک چیلنج ہوگا کہ مقامی اشوز کو کس طرح علیحدہ کرکے زیر غور لایا جائے؛ پھر کہیں اِن خطرات کے بین الاقومی عناصر پر بات ہوسکتی ہے۔

تجارت اور سرمایہ کاری

منگل کو افریقی رہنما حکومت کے عہدے داروں سے ملاقات کریں گے، جس دوران کاروبار کےعنوان پر معاشی سلامتی کا معاملہ زیر غور آئے گا۔

اِس اجلاس میں 200 سے زائد امریکی اور افریقی کاروباری حضرات شریک ہوں گے، جس میں تجارت اور مالی نوعیت کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے طریقے زیرِ غور آئیں گے۔

افریقہ کے ساتھ امریکی تجارت کے ایک اہم حصے کا دارومدار افریقی افزائش اور مواقع کے سلسلے میں وضع کردہ قانون ہے۔ اِس امریکی قانون سازی کا مقصد سب سہارا افریقہ کی معیشتوں کی اعانت کرنا اور معاشی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

اس قانون کے تحت وہ افریقی ممالک جن کے معاشی انتظام اور انسانی حقوق کا ریکارڈ اچھا ہے، اُنھیں بغیر محصول ادا کیے امریکی منڈیوں تک رسائی فراہم ہوگی۔

آج افریقہ تقریباً 7000مصنوعات امریکہ فروخت کرتا ہے، جن کی مالیت اندازاً 27 ارب ڈالر بنتی ہے۔

XS
SM
MD
LG