رسائی کے لنکس

پاک، امریکی تعلقات کاروباری لین دین نہیں

  • سارہ زمان

پاک، امریکی تعلقات کاروباری لین دین نہیں

پاک، امریکی تعلقات کاروباری لین دین نہیں

پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے ان دنوں ایک اہم موضوع وہ امداد ہے جو امریکہ کی جانب سے پاکستان کو گزشتہ تقریبا دس برسوں کے دوران ملک کی اقتصادی ترقی کے لیئے دی گئی۔ پاکستانی عوام کے ایک حلقے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اس امداد کا مقصد ملک کی ترقی اور خوشحالی نہیں بلکہ خطے میں امریکہ کے سٹریٹیجک مقاصد کے حصول کے لیئے حمایت حاصل کرنا ہے۔ دوسری جانب امداد کے باوجود پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کی بڑہتی ہوئی شدت کے باعث ان اخراجات کی افادیت پر واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں بھی تنقید کی جا رہی ہے۔

واشنگٹن کے تحقیقی ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز کے ڈینیئل مارکی کہتے ہیں کہ پاک امریکہ تعلقات کو آج ایک کاروباری لین دین کی طرح نہیں دیکھا جا سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ امداد کی نوعیت اگر کاروباری ہوتی تو امریکہ اس کے بدلے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مخصوص نتائج ظاہر کرنے کوکہتا،لیکن ایسا نہیں ہو رہا اور اس کے علاوہ امریکہ کی جانب سے پاکستان میں جتنا وقت اور سرمایہ سرف کیا جا رہا ہے اس کا جواز تب ہی بنتا ہے اگر اسے طویل مددتی تعلقات قایم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جائے۔

امریکی کانگرس کو امریکی محکمہ دفاع، امریکی ادارہ برائے خوراک و زراعت اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی امداد یا یو ایس ایڈ کے اعداد و شمار پر مبنی پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق دو ہزار ایک سے دو ہزار دس کے درمیان امریکہ کی جانب سے پاکستان کو تقریبا اٹھارہ ارب ڈالر کی امداد دی جا چکی ہے۔ جس میں سے تقریبا چھے ارب ڈالر پاکستان کی معاشی ترقی اور بقیہ پاکستانی فوج کو شدت پسندی کے خلاف آپریشنز کے لیئے کولیشن سپورٹ فنڈز کی مد میں جاری کیے گئے۔

وانشنگٹن کے ایک تحقیقی ادارے سنٹر فار گلوبل ڈیولپمنٹ سے منسلک مولی کنڈر کہتی ہیں کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کی معاشی ترقی میں مدد وہاں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیئے اہم ہے جس کا فائدہ نہ صرف امریکہ بلکہ پاکستان کو بھی ہوگا۔ان کے مطابق عام تاثر یہی ہے کہ معاشی عدم استحکام اور اپنے مستقبل سے مایوسی نہ صرف حکومت سے عدم اطمینان پیدا کرتے ہیں بلکہ عوام کے کچھ حلقوں کو دہشت گردی کی جانب راغب کرنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق گزشتہ کچھ برسوں میں امریکہ نے پاکستان میں شفاف پارلیمانی انتخابات کے لیئے بیلیٹ بکس فراہم کرنے سے لے کر صحت، تعلیم اور معیشت کے شعبوں میں ایسے منصوبوں کے لیئے کروڑوں ڈالرز دیئے ہیں جن سے ہزاروں پاکستانیوں کے معیار زندگی میں بہتری آئی ہے۔ لیکن پاکستان میں امریکہ کی معاشی امداد کے فوائد نمایاں طور پر نظر نہ آنا اس وقت ایک بڑا مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے جس کے لیئے ڈینیئل مارکی دونوں ممالک کو زمے دار ٹھہراتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ امداد کے نتائج واضع کرنے کی راہ میں کچھ بڑی رکاوٹیں ہیں، مثلا، امریکہ کی جانب سے پاکستان کو فوج کے مقابلے میں معیشت کے لیئے کتنی رقم دی جا رہی ہے،امریکہ اس امداد کے بدلے پاکستان سے مختلف شعبوں میں کس قسم کی ترقی دکھانے کی شرط رکھتا ہے اور امریکہ پاکستان میں اپنے ایڈ پروگرام پر عمل درامد کروانے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔دوسری جانب مارکی کے مطابق، امریکہ امداد کے موثر استعمال کے لیئے پاکستانی اہلکاروں پر انحصار کرتا ہے جو اگر حقیقت نہ بتایئں اور امریکی اہلکار عمل درامد کی قابلیت نہیں رکھتے تو فراڈ اور وسائل کے ضیاں کا امکان بڑہ جاتا ہے۔

خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق مستقبل میں پاکستان کے لیئے امریکہ کی معاشی امداد کو دو عوامل خاص طور پر متاثر کرسکتے ہیں۔۔۔پہلا ، امریکہ کے اپنے معاشی حالات۔۔اس حوالے سے واشنگٹن کے اسکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل سٹڈیز سے منسلک والٹر ایڈرسن کے مطابق آیئدہ ڈیڑہ سال کا عرصہ بہت اہمیت رکھتا ہے جب بجٹ کے خسارے کو کم کرنے کے لیئے اوباما انتظامیہ پر ہر طرح کے اخراجات کم کرنے کا دباو بڑہتا رہے گا۔

دوسرااہم عنصر ہے پاکستان میں جنم لینے والا کوئی بھی ایسا منصوبہ یا اقدام جو امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جائے۔ جنوبی ایشائی امورکی ماہر اور سری لنکا کے لیئے سابق امریکی سفری ٹیریسیٹا شیفر کہتی ہیں کہ کانگرس اور عوامی نمایئدوں کے لیئے ایک ایسے ملک کو امداد فراہم کرنا بہت مشکل ہے جس کے ایکشن امریکی عوام اور ریاست کے خلاف سمجھے جایئں۔ تاہم وہ کہتی ہیں کہ تعلقات میں اتار چڑہاو کے باوجود امریکہ کو پاکستان کے لیئے معاشی امداد مکمل طور پر بند نہیں کرنی چاہیئے۔

پاکستان کی مصیبت کی گھڑی میں امریکہ مدد کے لیئے آگے بڑہا جس سے ملک میں اس کی کمزور ساکھ کو کچھ عرصے کے لیئے سہارا بھی ملا۔۔ ۔ لیکن خطے میں امریکی افواج کی موجودگی اور پاک افغان سرحد پر ڈرون حملوں کے باعث ایسی صورت حال پیدا ہو چکی ہے کہ اکثر غیر ملکی امدادی کارکن پاکستان میں یہ بتاتے ہوئے گھبراتے ہیں کہ ان کے ہاتھوں سے دی جانے والی امداد کس ملک کی جانب سے ہے۔

پاک امریکہ تعلقات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی اقتصادی امداد کو پاکستان میں شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے اس کے لیئے ضروری ہے کہ امریکہ پاکستان کے حوالے سے اپنے قلیل مدتی دفاعی مقاصد کو ترقی کے طویل مددتی مقاصد سے علیحدہ کر کے دیکھے۔ اور اس امداد کے نتائج پاکستانی عوام خود دیکھ سکیں۔۔اس کے لیئے پاکستانی حکومت ملک میں ایسی سیاسی اور معاشرتی اصلاحات لائے جن سے ملک میں وسائل کا درست اور شفاف استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ کیونکہ جس طرح دہشت گردی کا خاتمہ ہر ملک کے اپنے مفاد میں ہے اسی طرح ایک ملک کے عوام کی جانب سے دوسرے ملک کے عوام کو دی جانے والی امداد کا درست استعمال بھی دونوں ملکوں کے اپنے مفاد میں ہے۔

XS
SM
MD
LG