رسائی کے لنکس

وارن نے الحرزی کے بارے میں کہا کہ وہ بن غازی کے حملے میں "ملوث شخص" تھا تاہم انہوں نے ان کے مشتبہ طور پر ملوث ہونے کے بارے میں کوئی تفصیل بیان نہیں کی۔

امریکہ نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے شمالی عراق میں ہونے والی فضائی کارروائی میں داعش کا ایک جنگجو مارگیا ہے۔ وہ مبینہ طور پر 2012 میں بن غازی میں امریکی کونسل خانے پر ہونے والے حملے میں ملوث تھا۔

اس حملے میں امریکی سفیرکرسٹوفراسٹیو سمیت چار امریکی شہری ہلاک ہو ئے تھے۔

پینٹاگان کے ترجمان کرنل اسٹیو وارن نے کہا کہ 15 جون کو موصل میں ہونے والی فضائی کارروائی میں علی اونی الحرزی مارا گیا ہے جو شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے داعش گروہوں سے وابستہ انتہاپسندوں کے ساتھ مل کر کام کرتا تھا۔

وارن نے الحرزی کے بارے میں کہا کہ وہ بن غازی کے حملے میں "ملوث شخص" تھا تاہم انہوں نے ان کے مشتبہ طور پر ملوث ہونے کے بارے میں کوئی تفصیل بیان نہیں کی۔

"ان کی موت سے داعش کی شمالی افریقہ کے جہادی گروہوں جن کے بین الاقوامی دہشت گردوں کے ساتھ طویل مراسم ہیں، کو شام اور عراق کی لڑائی میں شامل کرنے کی صلاحیت کو کم کر دیا ہے"۔

امریکی وزرات خارجہ اور اقوام متحدہ نے اس سے قبل رواں برس ہی الحرزی کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ2011 میں تیونس میں انصار الشریعہ میں شامل ہوا تھا اور اس کے بعد اس نے جنگجوؤں کو بھرتی کرنے اور ان کو تیونس اور شام کے سفر کے لئے مدد فراہم کی جبکہ اس نے تیونس میں ہتھیاربھی اسمگل کئے۔

XS
SM
MD
LG