رسائی کے لنکس

داعش پر امریکی حملوں میں پچھلے سال 64 شہری ہلاک ہوئے


یہ کارروائی اگست 2014ء میں عراق اور پھر ستمبر میں شام میں شروع کی گئی تھیں۔ اس دوران 16000 ہزار سے زائد حملے کیے جا چکے ہیں اور اس آپریشن میں ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر یومیہ خرچ ہو رہے ہیں۔

امریکہ کی فوج نے کہا ہے کہ عراق اور شام میں شدت پسند گروپ داعش کے خلاف اس کی فضائی کارروائیوں میں گزشتہ ایک سال میں 64 شہری ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔

بدھ کو یہ تازہ اعداد و شمار امریکی سنٹرل کمانڈ کی طرف سے جاری کیے گئے جس کے بعد اگست 2014ء میں شروع کیے گئے اس آپریشن میں شہری ہلاکتوں کی تعداد 119 ہو گئی جب کہ 37 لوگ زخمی ہوئے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ امریکی زیر قیادت اتحاد کی فضائی کارروائیوں میں گزشتہ دو سالوں کے دوران صرف شام میں 300 سے زائد افراد مارے گئے۔

پینٹاگان کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اتحادی فورسز کی کارروائیوں میں ہونے والے اس جانی نقصان میں امریکی فورسز کا حصہ دو تہائی ہے۔

اس تازہ رپورٹ میں وہ جانی نقصان شامل نہیں جو رواں سال جولائی میں شام کے شہر منبج میں کی گئی فضائی کارروائی میں ہوا تھا۔ مقامی آبادی اور انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا تھا کہ اس فضائی حملے میں 50 سے زائد عام شہری مارے گئے تھے۔

امریکی تاحال اس حملے کی تحقیقات میں مصروف ہے۔

سنٹرل کمانڈ کے ترجمان کرنل جان تھامس کا کہنا ہے کہ ایسی ٹیمز موجود ہیں جو "نادانستہ شہری جانی نقصان" سے بچنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

"بعض اوقات شہریوں کو فوجی کارروائی کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے لیکن ہم اس نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدام کرتے ہیں، یہاں تک کہ بعض اوقات ہمیں مصدقہ ہدف کو بھی چھوڑنا پڑ جاتا ہے۔"

یہ کارروائی اگست 2014ء میں عراق اور پھر ستمبر میں شام میں شروع کی گئی تھیں۔ اس دوران 16000 ہزار سے زائد حملے کیے جا چکے ہیں اور اس آپریشن میں ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر یومیہ خرچ ہو رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ اتحادی افواج نے بتایا تھا کہ عراق اور شام میں روزانہ اوسطاً دس فضائی حملے کیے جا رہے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG