رسائی کے لنکس

امریکی اتحادی کے طور پر اسرائیل کی قدروقیمت پربحث چھڑ گئی

  • جیروم سوکولوسکی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدراوباما بظاہر اِس تعلق کو سمجھتے ہیں جیسا کہ اُنھوں نے اِس سال کے شروع میں کہا تھا کہ ایسے تنازعات کے لیے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان میں امریکہ کو جانی اور مالی قیمت چکانی پڑ رہی ہے

واشنگٹن میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ فوجی اہمیت کے ایک اتحادی کے طور پر اسرائیل کی کیا قدرو قیمت ہے۔

اسرائیل نے حال ہی میں غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے پر جو حملہ کیا اُس کےبعد بعض لوگ اب یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ اسرائیلی اقدامات امریکہ کے لیے ایک سرمایہ ثابت ہونے کی بجائے بوجھ بنتے جارہے ہیں۔

اسرائیل کے ساتھ اتحاد عشروں سے امریکہ کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس کی بنیاد اِس بات پر قائم رہی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جمہوری اقدارمشترک ہیں اور یہ کہ ہولوکاسٹ کے بعد اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانا امریکہ کی ایک اخلاقی ضرورت ہے اور یہ کہ اسرائیل پہلے ہی بقیہ دنیا سے الگ تھلگ ہے اور یہ کہ ایک شورش زدہ علاقے میں اسرائیل فوجی اعتبار سے ایک سرمایہ ہے۔

تاہم، اب اِس آخری نکتے پر سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں۔اس سلسلے میں دلیل یہ دی جارہی کہ اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کی روشنی میں ایسے اقدامات سے مسلمان ملکوں میں جو غصہ جنم لیتا ہے اس سے وہاں متعین امریکی افواج کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدراوباما بظاہر اِس تعلق کو سمجھتے ہیں جیسا کہ اُنھوں نے اِس سال کے شروع میں کہا تھا کہ ایسے تنازعات کے لیے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان میں امریکہ کو جانی اور مالی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔

تاہم، اِس تعلق کو اسرائیل کے حامی متنازع خیال کرتے ہیں اس لیے کہ اسے ہنود مخالف قرار دیتے ہیں۔ اسرائیل کے حامی ایسے واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہیں جب اسرائیل نے امریکی مفادات کے لیے کاروائیاں کی تھیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ 1981ء میں جب اسرائیل نے عراقی نیوکلیئر ری ایکٹر پر حملہ کیا تو اُس سے یہ بات یقینی ہوگئی کہ اُس کے دس سال بعد خلیج کی پہلی جنگ کے دوران امریکہ کو کسی نیوکلیئر طاقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام امریکہ کی خارجہ پالیسی کا ایک نصب العین رہا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے ہینری ٹرومین سے لے کر براک اوباما تک امریکی صدر کو الجھن میں گرفتار کئے رکھا ہے۔

واشنگٹن میں قائم ‘انسٹی ٹیوٹ فور نیئر ایسٹ پالیسی’ کے فیلو ڈیوڈ میکووسکی کا خیال ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں معاملات ہمیشہ وہ نہیں ہوتے جو نظر آتے ہیں۔

اُن کے خیال میں کوئی ایسا نہیں جو یہ سمجھتا ہو کہ اگر آپ اس تنازعے کو حل کردیں تو آناً فاً کوئی جادوئی عمل سامنے آئے گا جو سارے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل جائے گا اور جس سے تمام دوسرے تنازعات ختم ہوجائیں گے۔ تاہم وہ اس بات کو مانتے ہین کہ امن کے عمل میں اسرائیل کی جانب سے دی جانے والی مراعات سے ہوسکتا ہے کہ یورپی ملکوں کےاعتدال پسند لوگوں کی برہمی میں کچھ کمی آجائے۔

XS
SM
MD
LG