رسائی کے لنکس

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے امریکی اعانت

  • روشن مغل

کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ تعلیم کی عمارت کی تعمیر اس جامع تعلیمی پروگرام کا حصہ ہے جسے امریکی حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر چلا رہی ہے۔

امریکہ نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے آئندہ دو برسوں میں چار کروڑ ڈالر کی معاونت فراہم کرے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بات اسلام آباد کے لیے امریکہ کے سفیر رچرڈ اولسن نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اپنے پہلے دورے کے موقع پر کہی۔

مظفرآباد میں کمشیر یونیورسٹی میں امریکی امداد سے تعمیر ہونے والے شعبہ تعلیم کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر اولسن کا کہنا تھا کہ اس رقم سے کشمیر سمیت پاکستان کی سولہ یونیورسٹیوں میں تعلیم، توانائی، صحت اور دیگر شعبوں میں بہتری کے لیے کام کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے تعاون کئی دہائیوں سے جاری ہے اور یہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔

کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ تعلیم کی عمارت کی تعمیر اس جامع تعلیمی پروگرام کا حصہ ہے جسے امریکی حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر چلا رہی ہے۔

اس پروگرام میں سولہ کروڑ ڈالر کا پاکستان ریڈنگ پراجکیٹ، آٹھ سو اسکولوں کی تعمیرو مرمت، چار یونیورسٹیوں میں پانی کی فراہمی، زراعت، غذائی تحفظ اور توانائی کے لیے اعلیٰ تعلیمی مراکز کا قیام اور لسانیات اور انگریزی تعلیم کے لیے کشمیر یونیورسٹی اور امریکہ کی سان ہوزے یونیورسٹی کے درمیان جامعاتی مشترکہ پروگرام کی اعانت بھی شامل ہے۔

اس موقع پر امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی "یو ایس ایڈ" کے پاکستان ریڈنگ پراجکیٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شو میکر نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت پاکستان کے 67 اضلاع میں سرکاری اور نجی اسکولوں کے ایک لاکھ پچیس ہزار سے زائد اساتذہ اور 32 لاکھ طالبعلوں کی درس و تدریس کی صلاحیت بہتر بنانا شامل ہے۔

اس موقع پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کر تے ہوئے یو ایس ایڈ کی اعلٰی عہدیدار نینسی ایسٹیس نے کہا کہ "ہم پاکستان میں تعلیم، توانائی، صحت کے فروغ کے بہتر مواقع پیدا کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور کشمیر یونورسٹی میں شعبہ تعلیم کی عمارت کی تعمیر اسی سلسلے کا حصہ ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے ذریعے بہت سے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے اور اسی لیے اس شعبے پر توجہ دینے کی خاص ضرورت ہے۔

اپنے دورے کے دوران امریکی سفیر نے حکومتی عہدیداروں کے علاوہ تاجروں سے بھی ملاقات کی جس میں پاکستانی کشمیر میں سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG