رسائی کے لنکس

پاکستان میں بے گھر خاندانوں کے لیے امریکی اعانت میں اضافہ

  • عشرت سلیم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

حالیہ برسوں میں پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قدرتی آفات سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں جن میں سے ایک بڑی تعداد تاحال اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکی۔

امریکہ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں بے گھر ہونے والے افراد کی غذائی امداد کے لیے اس برس مزید دو کروڑ 70 لاکھ ڈالر امداد فراہم کرے گی۔

اس رقم سے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے اعانتی پروگرام کے ذریعے بے گھر افراد کو اشیا خورونوش فراہم کی جائیں گی۔ یہ امداد اس سے قبل اکتوبر 2014 سے دی جانے والی تین کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی غذائی مدد کے علاوہ ہے۔

امریکہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے پاکستان میں ڈائریکٹر گریگ گوٹلیب نے کہا ہےکہ یہ رقم خصوصاً پاکستان کے قبائلی علاقوںسے تعلق رکھنے والے بے گھر خاندانوں کی خوراک کی خریداری کے لیے استعمال کی جائے گی۔ گریگ گوٹلیب کا کہنا تھا کہ ’’غذائی مدد وہ بنیاد ہے جس پر یہ افراد اپنے روزگار کی بحالی اور آبادیوں کی تعمیر نو کر سکتے ہیں۔‘‘

امریکہ کی جانب سے دی جانے والی غذائی امداد میں آٹا، خوردنی تیل، نمک اور دالیں شامل ہیں۔ 2010 سے اب تک امریکہ پاکستان کے لوگوں کو ستر کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی امداد فراہم کر چکا ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قدرتی آفات سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں جن میں سے ایک بڑی تعداد تاحال اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکی۔

حال ہی میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی ہمدردی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور فاٹا میں جنگ سے بے گھر افراد کی ضروریات اور بحالی کے لیے اس سال درکار 43کروڑ 30 لاکھ ڈالر میں سے اب تک صرف 14 کروڑ ڈالر حاصل کیے جا سکے ہیں۔

اضافی امریکی امداد سے درکار رقم اور دستیاب وسائل کے درمیان فرق کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے خاندانوں کی بحالی کے لیے درکار وسائل سے متعلق حکومت پاکستان کئی ممالک اور مالیاتی اداروں کو تفصیلی بریفنگ دی چکی ہے۔

پاکستانی عہدیداروں کا یہ موقف رہا ہے کہ اس مشکل کام میں بین الاقوامی برداری اُن کا ساتھ دے کیوں کہ اقتصادی مشکلات کے شکار ملک پاکستان کے لیے تنہا ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG