رسائی کے لنکس

فوجی تعداد کم کرنے سے افغان فورسز کی تربیت متاثر ہو گی: امریکی جنرل


جنرل جان کیمبل (فائل فوٹو)

جنرل جان کیمبل (فائل فوٹو)

صدر اوباما 2016 کے اواخر میں افغانستان میں امریکی دستوں کی موجودہ تعداد 9,800 سے کم کر کے 5،500 کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

افغانستان میں تعینات اعلیٰ امریکی فوجی کمانڈر نےامریکی سینٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ اگر افغانستان میں امریکی دستوں کی تعداد کو 5,500 تک کم کر دیا گیا جیسا کہ صدر اوباما تجویز کر چکے ہیں، تو اس سے افغانستان کی فورسز کو تربیت فراہم کرنے کا عمل شدید متاثر ہو گا۔

صدر اوباما 2016 کے اواخر میں افغانستان میں امریکی دستوں کی تعداد کو موجود تعداد 9,800 سے کم کر کے 5،500 کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

تاہم جنرل جان کیمبل نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو "افغان فوجیوں کی اضافی تربیت کا کام بہت ہی کم ہو سکے گا"۔

افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف صدر اوباما کے فوجی آپریشن کے کانگریس کے نقادوں کا کہنا ہے کہ امریکی دستوں کی تعداد کو کم سطح تک کرنا امریکہ کی ان طویل کوششوں کو متاثر کرے گا جو 2001 میں القاعدہ کے حملوں کے بعد شروع ہوئیں۔

ایریزونا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر جان مکین نے کہا کہ امریکی دستوں کی تعداد کو اگر کم کیا جائے گا تو افغان فوج کو تربیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی کا کام ممکن نہیں رہے گا۔

سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر اے زیڈ ہلالی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ جب تک افغان فورسز اپنے طور پر سیکورٹی کے معاملات سنبھال نہیں لیتی ہیں اس سے پہلے وہاں امریکی فورسز کی تعداد کو کم کرنا نہ صرف افغانستان بلکہ خطے کی سلامتی کے لیے مناسب نہیں ہوگا۔

صدر اوباما نے پہلے کہا تھا کہ وہ 2015 کے اواخر تک امریکی دستوں کی تعداد کو 5,500 تک کم کر دیں گے تاہم جیسے جیسے یہ وقت قریب آیا تو افغانستان میں باغیوں کے حملوں کی صورت حال کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد اس وقت کو 2016 کے اواخر تک بڑھا دیا گیا۔

صدر اوباما نے نے فوج کے لیفٹینٹ جنرل جان نکولسن کو جنرل کیبمل کی جگہ افغانستان میں امریکی اور بین الاقوامی فوج کا کمانڈر نامزد کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG