رسائی کے لنکس

امریکہ: اسرائیل کی فوجی مدد جاری رکھنے کا عزم


جنرل مارٹن ڈیمپسی ان دنوں اسرائیل کے دورے پر ہیں۔

جنرل مارٹن ڈیمپسی ان دنوں اسرائیل کے دورے پر ہیں۔

امریکی مسلح افواج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا کہ اسرائیلی حکام کو تسلی رکھنی چاہیے کہ امریکہ ہر دو صورتوں میں ایران سے لاحق خطرات سے نبٹنے میں اسرائیل کی ہر ممکن مدد کرے گا۔

امریکہ نے ایک بار پھر اسرائیل کو یقین دلایا ہے کہ وہ ایران سے لاحق سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر یروشلم حکومت کو فوجی امداد کی فراہمی جاری رکھے گا۔

اسرائیلی حکومت کو یقین دہانی امریکی مسلح افواج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کرائی ہے جو ان دنوں اسرائیل کے دورے پر ہیں۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مارٹن ڈیمپسی نے بدھ کو یروشلم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کے ان خدشات سے متفق ہیں کہ جوہری معاہدے کے بعد ایران پر عائد پابندیوں کےخاتمے کے نتیجے میں تہران حکومت کو اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافے اور خطے میں موجود اپنے اتحادی گروہوں کی مدد کرنے کے لیے زیادہ وسائل میسر آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا اپنا تجزیہ بھی یہی ہے کہ پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران اپنے تمام وسائل اپنی معیشت کو بہتر بنانے پر صرف نہیں کرے گا بلکہ خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنے والی تنظیموں اور اپنی فوج پر پہلے سے بڑھ کر رقم خرچ کرنے کے قابل ہوجائے گا۔

لیکن انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام کو تسلی رکھنی چاہیے کہ جوہری معاہدہ طے پائے یا نہ طے پائے، امریکہ ہر دو صورتوں میں ایران سے لاحق خطرات سے نبٹنے میں اسرائیل کی ہر ممکن مدد کرے گا۔

امریکی فوج کے سربراہ نے کہا کہ ان کے دورۂ اسرائیل کا مقصد بھی اسرائیل کی دفاعی قیادت کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ امریکہ خطے کی سلامتی کو ایران سے لاحق خطرات سے بخوبی آگاہ ہے اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان خطرات کا مقابلہ کرے گا۔

اسرائیل کے وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کا موقف رہا ہے کہ امریکہ اور دیگر بین الاقوامی طاقتوں اور ایران کے درمیان کوئی بھی جوہری معاہدہ اسرائیل کے لیے سلامتی کے لیے خطرات میں اضافے کا موجب ہوگا۔

XS
SM
MD
LG