رسائی کے لنکس

سوا دو ارب ڈالر سے زیادہ کے ترقیاتی منصوبے 2012 میں ان علاقوں میں شروع کیے گئے تھے جہاں اس وقت افغان حکوممت کا کنڑول تھا، لیکن بعد ازاں یہ پروگرام عسکریت پسندوں کا نشانہ بنتے رہے۔

امریکی حکومت کی نگرانی سے متعلق ایک ادارے نے کہا ہے کہ افغانستان کی تعمیر نو اور استحکام کے لیے شروع کیے گیے دو درجن سے زیادہ منصوبے جن کی مالیت 2 ارب 30 کروڑ ڈالر سے زیادہ تھی اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

افغانستان کی تعمیر نو سے متعلق خصوصی انسپکٹر جنرل SIGAR کی جانب سے ہفتے کے روز جاری ہونے والی رپورٹ میں ناکامیوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔ یہ ادارہ امریکی ٹیکس دہندگان کی رقوم سے جنگ سےتباہ حال ملک کی تعمیر نومیں مدد کا ذمہ دار ہے۔

بین الاقوامی ترقی کے امریکی ادارے یوایس ایڈ کا آڈٹ 2012 میں ملکی استحکام کے لیے شروع کیے گئے پروگراموں کی نگرانی اور اہداف کے اثرات پر مبنی تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شورش پسندوں نے ان علاقوں میں تعمیراتی منصوبوں کو پروگراموں کو اپنا نشانہ بنایا جہاں اس وقت افغان حکومت کا کنٹرول تھا اور یوایس ایڈ کو وہاں اپنے منصوبوں کی نگرانی اور عمل درآمد کے سلسلے میں مسلسل مشکلات کا سامنا رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ان مقامات کا صحیح طور پر تعین نہ کیا جا سکا جہاں یوایس ایڈ نے تعمیر نو کے پراجیکٹ شروع کیے تھے، کیونکہ اس بارے میں دستیاب معلومات درست نہیں تھیں اس لیے ان کی تصدیق کا کام نہیں کیا جا سکا۔

آڈٹ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ غیردرست معلومات کی موجودگی میں یہ تعین کرنا دشوار ہے کہ ترقیاتی پروگرام کس جگہ شروع کیے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG