رسائی کے لنکس

’بلیک واٹر‘ کو خرید لیا گیا


’بلیک واٹر‘ کو خرید لیا گیا

’بلیک واٹر‘ کو خرید لیا گیا

دو روز قبل یوایس ٹی سی ہولڈنگز نے اعلان کیا ہے کہ اس نے سیکیورٹی کمپنی بلیک واٹر جو اب Xeیا ذی کہلاتی ہے کو خرید لیا ہے۔

ایک امریکی سرمایہ کار گروپ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے سابق نجی سیکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کو خرید لیا ہے اور اس کے بانی کا اب اس کے آپریشنز میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔

دو روز قبل یوایس ٹی سی ہولڈنگزجو ایک کنسورشیم ہے، نے اعلان کیا ہے کہ اس نے سابقہ بلیک واٹر جو اب Xeیا ذی کہلاتی ہے کو خرید لیا ہے۔ کمپنی اندرون اور بیرون ملک سیکیورٹی کی خدمات اور تربیت فراہم کرتی ہے۔ سودے کی مکمل تفصیلات کا اعلان نہیں کیا گیا مگر بیان میں اتنا کہا گیا ہے کہ سابق سربراہ ایرک پرنس اب کمپنی میں حصہ دار نہیں ہونگے۔

بلیک واٹر کو سن 2007میں اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب بغداد میں اس کے اہلکاروں نے فائرنگ کر کے سترہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ کمپنی اب عراق میں کام نہیں کررہی مگر افغانستان میں وہ امریکی وزارت خارجہ اور حساس ادارے سی آئی اے کے لئے کام کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ بھی کمپنی کو کئی قانونی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ اس سال کے شروع میں بلیک واٹر کے پانچ اہلکاروں پر اسلحے سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کئے گئے۔اس کے علاوہ ایسے الزامات کے حوالے سے تحقیات جاری ہیں کہ اس کے عہدیداروں نے عراقی حکام کو رشوت دینے کی کوشش کی۔

کمپنی کے دو اہلکاروں کو سن 2009میں افغانستان میں دو افغان شہریوں کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG