رسائی کے لنکس

مارک ٹونر نے بتایا کہ امریکہ نے ایسے افراد کے ماضی کے بارے میں جاننے کے لیے بہت وسائل صرف کیے اور شام کا بحران شروع ہونے کے بعد سے امریکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کے لیے چار ارب ڈالر فراہم کر چکا ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے شامی پناہ گزینوں کو ملک میں داخل ہونے کی کوششوں کے سرکاری مراحل کو تیز کردیا ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ 2011ء میں شام کا بحران شروع ہونے کے بعد سے رواں سال اکتوبر تک امریکہ میں داخل ہونے والے شامیوں کی تعداد 1800 تک پہنچنے کی توقع ہے۔

ان کا یہ بیان ایک تین سالہ شامی بچے کی یونان کے ساحل سے ملنے والی لاش کی تصویر کے منظر عام پر آنے کے بعد سامنے آیا۔ اس بچے کی والدہ اور بھائی بھی تارکین وطن کی کشتی کو پیش آنے والے حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ٹونر کا کہنا تھا کہ حکام "دل ہلا دینے والی یہ تصاویر دیکھ کر دنگ" رہ گئے۔

انھوں نے بتایا کہ شام جیسے ملکوں سے آنے والے تارکین وطن کے امریکہ میں داخلے میں نیا امریکی جائزہ منصوبہ ہے جس کے تحت ایسے لوگوں کو داخلے کی درخواست پر کارروائی 24 ماہ میں ہوسکتی ہے۔

"دنیا کے اس خطے میں بہت سے دہشت گرد گروپ کام کر رہے ہیں، ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ بنیادی طور پر امریکہ کی قومی سلامتی محفوظ رہے۔"

مارک ٹونر نے بتایا کہ امریکہ نے ایسے افراد کے ماضی کے بارے میں جاننے کے لیے بہت وسائل صرف کیے اور شام کا بحران شروع ہونے کے بعد سے امریکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کے لیے چار ارب ڈالر فراہم کر چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تنازع کے بالآخر سیاسی حل کی ہی ضرورت ہے جس میں صدر بشار الاسد کی رخصتی اور شدت پسند گروپ داعش کی شکست بھی شامل ہے۔

انسانی حقوق کی ایک موقر تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے پروگرام برائے پناہ گزین کے ڈائریکٹر بل فریلک اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پناہ گزینوں کے بحران کی اصل وجہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے لیکن ان کے بقول اسی دوران امریکہ اور دیگر ملکوں کو مزید اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

"آپ لوگوں کو عارجی طور پر تحفظ نہ دینے اور ان کی انسانی ضروریات کو پورا نہ کرنے کے لیے اس معاملے کو بہانے کے طور پر استعمال نہیں کر سکتے۔"

فریلک کا کہنا تھا کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کو مزید رقم فراہم کرے کیونکہ ان کے بقول شام کے پناہ گزینوں کے لیے فنڈز بہت ہی کم دستیاب ہیں۔

XS
SM
MD
LG