رسائی کے لنکس

بوسٹن حملہ کیس سماعت، جیوری کا چناؤ جاری


سماعت، کمرہٴ عدالت کا اسکیچ

سماعت، کمرہٴ عدالت کا اسکیچ

شہر بوسٹن کی وفاقی عدالت تقریبا ً 1200 افراد میں سے جیوری کا چناؤ کرے گی۔ اِن میں سے، جیوری کے 12 ارکان کے چناؤ کے ساتھ ساتھ چھ متبادل جیوررز کا بھی چناؤ ہوگا

بوسٹن میراتھون ریس پر بم حملہ کرنے والے ملزم، زوخار سارنیف کا مقدمہ چلانے کے لیے جیوری کے چناؤ کا عمل جاری ہے، ایسے میں جب 21 برس کا ملزم کمرہٴعدالت میں موجود تھا۔

اپنے وکلا کے ہمراہ، پیر کے روز سارنیف میساچیوسٹس کے شہر بوسٹن کے کمرہٴعدالت میں جیوری کے اسمبلی روم میں حاضر تھا، جہاں آج ہی کے روز جیوری کے 12 ججوں اور متبادل چھ جیوری کے ارکان کے چناؤ کا آغاز ہوا۔

صدارت کرنے والے جج، جارج او تولے نے ممکنہ جیوری کو بم حملے کے کیس کے حقائق بیان کیے۔ تاہم، اُنھیں عدالت کے سامنے پیش ہونے والے ثبوت کی بنیاد پر، مقدمے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔


سارنیف کے خلاف تین افراد کی ہلاکت اور 260 دیگر افراد کو زخمی کرنے پر 30 الزامات عائد کیے گئے ہیں، جب اُنھوں نے 15 اپریل، 2013ء کو میراتھوں ریس کی ’فنش لائن‘ کے قریب دو دیسی ساخت کے بموں سے حملہ کیا۔

جرم ثابت ہونے پر، اُنھیں موت کی سزا ہو سکتی ہے، جب کہ سارنیف نے تمام الزامات پر اقبال جرم سے انکار کیا ہے۔

مقدمے کا آغاز 26 جنوری سےہوگا، اور توقع ہے کہ تین سے چار ماہ کے اندر اندر اس پر فیصلہ سامنے آسکتا ہے۔

سارنیف کا تعلق روس کے شمالی قفقاز کے علاقے سے ہے اور وہ امریکی شہری ہیں۔ اُن پر یہ بھی الزام ہے کہ بم حملوں کے تیسرے روز، اُنھوں نے یونیورسٹی پولیس اہل کار کو گولی مار کر ہلاک کیا، اور ملزمان کی شناخت پر، وہ اور اُن کے بھائی، تمرلان نے علاقے سے بھاگنے کی کوشش کی۔ تمرلان سارنیف پولیس کے ساتھ گولیوں کے تبادلے کے دوران ہلاک ہوا۔

XS
SM
MD
LG