رسائی کے لنکس

زیکا وائرس کا علاج: امریکہ و برازیل کا مشترکہ کوششوں پر زور


برازیل

برازیل

دونوں سربراہان نے جمعے کے روز ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ اوباما اور روزف نے مشترکہ کوششوں کا عہد کیا، دوسری جانب سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ زیکا وائرس کا ویکسیں تیار کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں

امریکہ اور برازیل کے صدور نے زیکا وائرس کے پھیلائو کی بیخ کُنی کے لیے ’’مشترکہ کوششوں کی اہمیت‘‘ سے اتفاق کیا ہے۔

دونوں سربراہان نے جمعے کے روز ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ وائٹ ہائوس کے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر اوباما اور ڈیلما روزف ایکساتھ کوششیں کرنے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں، تاکہ وائرس کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے آگہی کو فروغ دیا جائے، تحقیق میں پیش رفت ہو اور کام میں تعاون بڑھایا جائے تاکہ موئثر ویکسین اور ٹینکالوجی دریافت کی جائے‘‘۔

مچھروں سے پیدا ہونے والا زیکا وائرس امریکی براعظم میں پھیل رہا ہے، جب کہ اسی سال اولمپکس میں شرکت کے لیے لاکھوں لوگ برازیل کا رُخ کرنے والے ہیں، جس سے اس بات کا خدشہ ہے کہ بین الاقوامی کھیلوں میں شریک ہونے والے واپسی پر دنیا بھر کے لوگوں میں زیکا وائرس کے پھیلنے کا باعث نہ بنیں۔

بیماری پر کنٹرول اور احتیاط سے متعلق مراکز کی سربراہ، ڈاکٹر بیتھ بیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’’بہت سے افراد کے لیے، زیکا وائرس کوئی مسئلہ نہیں۔ اس سے فلو جیسی ہلکی علامات مرتب ہوتی ہیں، لیکن مرض نومولود بچوں میں سخت تشویش کا موجب بن سکتا ہے، جنھیں ’مائکرو سیفالی‘ کا مرض لاحق ہو سکتا ہے‘‘۔

برازیل میں اس بیماری کے اندازاً4000 مریض ہیں، جس میں نومولود بچوں کے سر اور دماغ نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں۔ ’مائکرو سیفالی‘ کی اس بیماری کا ابھی کوئی علاج دریافت نہیں ہوا۔

برازیل میں قومی سطح پر مہم کا آغاز

روزف نے جمعے کو ملک بھر میں مہم شروع کرنے کا اعلان کیا، جس دوران، ’ایڈئس ایجپٹی‘ نامی مچھر کو تلف کیا جائے گا، جو انسانوں میں زیکا وائرس پھیلانے کا موجب بنتا ہے۔

برازیل کی صدر نے کارروائی کے احکامات دیے ہیں جس میں اس مچھر کی پیدائش کے مقامات کو نشانہ بنایا جائے گبا، جن میں فوج اور وفاقی تعلیی اداروں، صحت اور دیگر تنصیبات پر دھیان مرکوز ہوگا۔

روزف نے برازیلی عوام سے اس مرض پر کنٹرول کی کوششوں میں شرکت پر زور دیا۔ بقول اُن کے، ’’ضرورت اس بات کی ہے کہ اُن مقامات کو نشانہ بنائیں جہاں یہ مچھر پیدا ہوتا ہے۔ ہم یہ جنگ ہر صورت جیتیں گے‘‘۔

اوباما اور روزف نے مشترکہ کوششوں کا عہد کیا، دوسری جانب سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ زیکا وائرس کا ویکسیں تیار کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

دریں اثنا، برازیل نے برطانیہ کی ایک کمپنی، ’اوکسی ٹیک‘ سے مدد طلب کی ہے۔ اس سلسلے میں نیو یارک ٹائمز کے مطابق، حالیہ دِنوں ایک خبر شائع کی ہے۔

ادھر، صحت کے عالمی ادارے، ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ زیکا وائرس امریکی براعظم میں تیزی سے پھیل رہا ہے، اور عین ممکن ہے کہ اب تک 40 لاکھ لوگ اس سے متاثر ہو چکے ہوں۔

امریکہ میں، صدر براک اوباما نے زیکا انفیکشن کے علاج کے لیے ویکسین پر فوری تجربات پر زور دیا ہے۔

اوباما نے صحت کے اعلیٰ مشیروں کا ایک اجلاس منعقد کیا، تاکہ امریکی براعظم میں وائرس پھیلنے کی صورت میں معیشت اور ترقیاتی کام میں پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

وائرس کا نام ’زیکا‘ اس لیے پڑا کہ تقریباً 70 برس قبل یوگنڈا کے ایک جنگل میں پہلی بار یہ بیماری ایک بندر کو لگی، جسے انسانی نسل سے قریبی مشابہت دی جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG