رسائی کے لنکس

لندن کانفرنس: امریکہ اور برطانیہ بھی ’بدعنوانی کی وبا کے ذمہ دار‘


ڈیوڈ کیمرون اور جان کیری لندن کانفرنس میں۔

ڈیوڈ کیمرون اور جان کیری لندن کانفرنس میں۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ چوری شدہ اربوں ڈالر جنہیں ترقی پذیر ممالک میں تعلیم یا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ہمارے ملک سمیت بیرون ملک بینکوں میں چھپائے گئے ہیں۔

انسداد بدعنوانی کے لیے جمعرات کو لندن میں ہونے والی کانفرنس میں برطانیہ اور امریکہ کو موقع ملا کہ وہ اپنی ان پالیسیوں پر نظر ڈالیں جو چوری شدہ اربوں ڈالر چھپانے میں ترقی پذیر ممالک کے بدعنوان سیاستدانوں کی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

لندن کانفرنس میں عالمی بدعنوانی میں افریقی جنرلز، بااثر افراد اور بدعنوان آمروں پر الزام تراشی کی بجائے توجہ امیر ممالک کی طرف مبذول رہی جن کے بینک اور جائیداد کی خریدوفروخت سے منسلک افراد لوٹی گئی دولت سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کچھ اقدامات کا اعلان کیا جس میں کمپنیوں کو اپنے اصل مالکوں کے نام ظاہر کرنے پر مجبور کرنے کے لیے پبلک رجسٹر بنانا شامل ہے۔ برطانوی حکومت کے عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ یہ پہلا ایسا اقدام ہو گا۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ چوری شدہ اربوں ڈالر جنہیں ترقی پذیر ممالک میں تعلیم یا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ہمارے ملک سمیت بیرون ممالک بینکوں میں چھپائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں نظر آنے والی انتہا پسندی بھی عوام کی طرف سے ایک بدعنوان نظام سے بددلی کا نتیجہ ہے اور اس کا اظہار انتخابات سمیت دنیا بھر میں مختلف شکلوں میں ہو رہا ہے۔۔

اس ایک روزہ کانفرنس میں افغانستان، کولمبیا، نائیجیریا اور دیگر ممالک کے رہنما شریک ہوئے۔

برطانوی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد معاشرے کی تمام سطحوں سے بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے عالمی کارروائیوں کو تیز کرنا ہے۔

یہ کانفرنس ایسے وقت ہوئی جب حال ہی میں پاناما پیپرز سے انکشاف ہوا تھا کہ دنیا کے طاقتور افراد اپنی دولت کیسے چھپاتے ہیں۔

ان دستاویزات میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے مرحوم والد برطانوی ٹیکسوں سے بچنے کے لیے ایک آف شور کمپنی چلا رہے تھے۔

بعد ازاں انکشاف ہوا کہ وزیر اعظم کا بھی اس لین دین میں حصہ تھا اور انہوں نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔

پاناما دستاویزات کے اس انکشاف کے بعد کہ 210,000 میں سے نصف سے زائد کمپنیاں برطانیہ کے زیر تسلط برٹش ورجن آئی لینڈز میں رجسٹرڈ ہیں برطانیہ پر دباؤ ہے کہ وہ اصلاحات کا دائرہ اپنے زیر قبضہ سمندر پار علاقوں تک بڑھائے۔

پاناما دستاویزات میں نسبتاً کم امریکیوں کے نام سامنے آئے ہیں اور ان میں کسی اعلیٰ عہدیدار کا نام شامل نہیں۔

مگر انسداد بدعنوانی کے سرگرم کارکن امریکہ کو ڈیلاویئر، نیواڈا اور وائیومنگ ریاستوں میں ٹیکسوں سے بچنے اور کالا دھن سفید کرنے کے حوالے سے باعث تشویش سمجھتے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں بہت کم پیسوں میں اور خفیہ طریقے سے کمپنیاں قائم کی جا سکتی ہیں۔

کیری نے کہا کہ ایک مجوزرہ قانون امریکہ میں قائم کی گئی کمپنیوں کو مجبور کرے گا کہ وہ اپنے مالکان کی مکمل فہرست جاری کریں، اور ایک ضابطے کے تحت بینکوں سے اپنی گاہک کارپوریٹ کمپنیوں کے اصل مالکان کا ریکارڈ رکھنے کے لیے کہا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG