رسائی کے لنکس

اوباما، ری پبلکن رہنما بجٹ پرموجود اختلافات دورکرنےمیں ناکام


اوباما، ری پبلکن رہنما بجٹ پرموجود اختلافات دورکرنےمیں ناکام

اوباما، ری پبلکن رہنما بجٹ پرموجود اختلافات دورکرنےمیں ناکام

مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ ملک کی معاشی بحالی کو درپیش خطرے سے بچانے کے لیے سمجھوتے کی ضرورت ہے

ری پبلیکن رہنماؤں کا کہنا ہےکہ صدربراک اوباما اوراُن کے درمیان بجٹ پراتفاقِ رائے کے حصول کیلیے ہونے والی ملاقات بے نتیجہ رہی ہے جس کے بعد فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث رواں ہفتہ کے اختتام پر سرکاری اداروں کی بندش کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

ایوانِ نمائندگان کے ری پبلیکن اسپیکر جان بینر نے منگل کے روز 'وہائٹ ہاؤس' میں صدر اوباما اور امریکی کانگریس کے اہم رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ری پبلیکن ایوانِ کانگریس نے اوباما انتظامیہ کی جانب سے پیش کردہ اخراجات میں کٹوتی سے متعلق تجاویز کو مسترد کردیا ہے۔

واضح رہے کہ صدر اوباما کی جانب سے کانگریس کے اہم رہنماؤں کے ساتھ طلب کردہ آج کے اجلاس کا مقصد ستمبر میں ختم ہونے والے رواں مالی سال کے باقی ماندہ ایام کیلیے انتظامیہ کو فنڈز کی فراہمی کے معاملے پر موجود تعطل کو کا دور کرنا تھا۔

اگر رواں ہفتے کے اختتام تک کانگریس کے ری پبلیکن اور ڈیموکریٹ اراکین فنڈز کے اجراء سے متعلق کسی منصوبہ پر متفق نہیں ہوئے تو جمعہ کے بعد سرکاری اداروں کو فنڈز کی فراہمی معطل ہوجائے گی جس کے بعد سوائے 'ہنگامی خدمات' فراہم کرنے والے اداروں کے تمام سرکاری اداروں اور ایجنسیوں میں کام بند ہوجائے گا۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ بجٹ پر موجود اختلافات دور کرنے اور سرکاری اداروں کی بندش سے بچنے کیلیے اوباما انتظامیہ کی جانب سے کیا اقدامات اٹھائے جائینگے۔

ملاقات سے قبل 'وہائٹ ہاؤس' کے ترجمان جے کارنے نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ صدر اوباما کو یقین ہے کہ 2011ء کے بجٹ منصوبے پر اتفاقِ رائے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ اور ری پبلکن اراکین گزشتہ کئی ماہ سے بجٹ پر موجود اختلافات دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

صدر اوباما کا موقف ہے ملک کی معاشی بحالی کیلیے انتہائی ضروری ہے کہ بجٹ میں تجویز کردہ اخراجات کے حوالے سے دونوں جماعتوں کسی معاہدے پر اتفاق کرلیں۔ جبکہ ری پبلیکن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی اداروں کی بندش نہیں چاہتے تاہم مالی خسارے پر قابو پانے کیلیے انتظامیہ کو اخراجات میں بڑی کٹوتیاں کرنے پر رضامندی ظاہر کرنا ہوگی۔

بجٹ پر موجود اختلافات طے نہ ہونے کے باعث انتظامی اداروں کو درکار فنڈز کی فراہمی کیلیے کانگریس کی جانب سے گزشتہ سال اکتوبر سے شروع ہونے والے رواں مالی سال کے دوران اب تک چھ عارضی فنڈنگ پلان منظور کیے جاچکے ہیں۔

اختلافات طے نہ ہونے کی صورت میں سرکاری اداروں کی بندش سے بچنے کیلیے اراکینِ کانگریس ساتویں عارضی بجٹ پلان کی منظوری بھی دے سکتے ہیں تاہم 'وہائٹ ہاؤس' اور کئی منتخب اراکین اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے خواہاں ہیں۔

اوباما انتظامیہ کی جانب سے ایک کھرب ڈالرز حجم کے حامل بجٹ میں سے لگ بھگ 33 ارب ڈالرز کی کٹوتیوں پر آمادگی کا اظہار کیا جاچکا ہے۔ تاہم ری پبلیکن اراکین سرکاری اخراجات میں کم از کم 61 ارب ڈالرز کی کٹوتی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG