رسائی کے لنکس

نئے بجٹ سجھوتے کی منظوری دی جائے: وائٹ ہاؤس اور بینر


بینر نےسینیٹ میں ریپلیکن پارٹی کےقائد، مِچ مکونیل؛ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اقلیتی قائد نینی پلوسی اور سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے قائد، ہیری ریڈ سے مذاکرات کے بعد، یہ سمجھوتا طے کیا

وائٹ ہاؤس، ریپبلکین پارٹی کے ریٹائر ہونے والے ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر، جان بینر اور لابی کرنے والے قانون سازوں نے منگل کے روز حکومتی اخراجات اور ملک کے قرضے کے اختیارات کے نئے منصوبے کی منظوری کی تاکید کی ہے، باوجود اس بات کے کہ ریپبلیکن پارٹی کے قدامت پسند ارکان نے اس سمجھوتے پر تنقید کی ہے۔

نائب صدر جو بائیڈن نے سمجھوتے کو ’ایک اچھا معاہدہ‘ قرار دیا ہے، جس کے لیے ہفتوں تک مذاکرات جاری رہے۔

بینر اِسی ہفتے کانگریس سے رخصت ہونے والے ہیں۔ بقول اُن کے، ’کسی اعتبار سے، سمجھوتا بہترین نہیں کہلا سکتا‘۔

تاہم، بینر نے کہا کہ اس کا متبادل بدتر ہے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ملک کے لیے قرضہ جات کا ایسا اختیار مانا جائے جس سے ملکی قرضے کی 18.4 ٹرلین ڈالر سے زائد کا بوجھ قبول کیا جائے، جب کہ ملکی اخراجات میں اصلاحات کی کوئی صورت موجود نہ ہو، جب کہ عمررسیدہ حضرات کی پینشن میں فرق آئے اور صحت عامہ کے پروگرام ادھورے رہ جائیں۔

متعدد قدامت پسند قانون سازوں نے، جو ایک طویل عرصے تک بینر کی سرزنش کرتے آئے ہیں کہ اُنھوں نے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر براک اوباما کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں، سمجھوتے کے خلاف شکایت کی۔۔

اُنھوں نے کہا کہ اس سے سنہ 2011 میں ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہے جس میں ایوان کے دونوں اطراف کے قانون سازوں نے طے کیا تھا کہ اخراجات میں سنہ 2016 میں 50 ارب ڈالر جب کہ 2017ء میں 30 ارب ڈالر سے زائد کے اضافے کا اختیار نہیں دیا جائے گا۔

کانگریس کے رکن، پول رائن بھی، جو ممکنہ طور پر ایوان کے اسپیکر کے طور پر بینر کی جگہ لیں گے، سمجھوتے کے ناقدین میں شامل ہیں۔

رائن کے بقول، ’میرے خیال میں، یہ عمل غلط ہے‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ یہ عوام کے مفاد میں کارروائی کا درست طریقہ کار نہیں ہے۔ نئے سمجھوتے کے تحت، ہم قانون سازی کے ایسے طریقہ کار کی اجازت نہیں دے سکتے۔

تاہم، کئی ایک قدامت پسند قانون سازوں کی رائے میں ایوان بدھ کو اس نئے سمجھوتے کی منظوری دے دے گا، جس میں تمام ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندوں کے علاوہ ریپبلیکن پارٹی کے معتدل ارکان بھی شریک ہوں گے۔ صدر کی دستخط سے قبل، اس پر سینیٹ کی جانب سے بھی منظوری درکار ہوگی۔
بینر نےسینیٹ میں ریپلیکن پارٹی کےقائد، مِچ مکونیل؛ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اقلیتی قائد نینی پلوسی اور سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے قائد، ہیری ریڈ سے مذاکرات کے بعد، یہ سمجھوتا طے کیا۔

XS
SM
MD
LG