رسائی کے لنکس

امریکی بجٹ میں پاکستان کے لیے 86 کروڑ ڈالر مختص

  • خلیل بگھیو

چارسدہ (فائل)

چارسدہ (فائل)

محکمہٴ خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ بجٹ میں اعانت اور فوجی کارروائیوں کی فنڈنگ کے ضمن میں افغانستان کے لیے 2.5 ارب ڈالر، جب کہ پاکستان کے لیے تقریباً 86 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے، تاکہ، ’’دونوں ملکوں کے ساتھ اپنے عزم کو جاری رکھا جائے، جس میں پُرتشدد انتہا پسندی کے خلاف لڑائی شامل ہے‘‘

سال 2017ء کے امریکی بجٹ میں پاکستان کے لیے 86 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔

محکمہٴ خارجہ کے ترجمان کے مطابق، اِس میں 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر فوجی سازو سامان، اعانتی فنڈ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے رکھے گئے ہیں۔

اکتوبر سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کا مجموعی طور پر 4 ٹریلین ڈالر مالیت کا مجوزہ امریکی وفاقی بجٹ صدر براک اوباما نے منگل کو منظوری کے لیے کانگریس بھجوایا۔

محکمہٴ خارجہ کے ترجمان نے منگل کے روز اخباری بریفنگ میں بتایا کہ بجٹ میں اعانت اور فوجی کارروائیوں کی فنڈنگ کے ضمن میں افغانستان کے لیے 2.5 ارب ڈالر، جب کہ پاکستان کے لیے تقریباً 86 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے، تاکہ، ’’دونوں ملکوں کے ساتھ اپنے عزم کو جاری رکھا جائے، جس میں پُرتشدد انتہا پسندی کے خلاف لڑائی شامل ہے‘‘۔

تاہم، ترجمان نے کہا کہ ’’امریکہ کی زیادہ تر اولیت عالمی نوعیت کی ہے، جو کسی ایک خطے تک محدود نہیں۔ اس لیے، مجموعی چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کے لیے، ہم علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں پر انحصار کرتے ہیں، مثلاً اقوام متحدہ۔‘‘

اس لیے، ترجمان نے کہا کہ بجٹ تجاویز میں بین الاقوامی اداروں، امن کاری کے مشن اور سکیورٹی کے شعبے میں عالمی سطح پر اصلاحاتی کاوش کے لیے رقوم کی فراہمی کی منظوری کے لیے کہا گیا ہے۔

اس کے علاوہ، ترجمان نے کہا کہ مہاجرین کے موجودہ بدترین بحران سے نمٹنے کے لیے، 6.2 ارب ڈالر کی خطیر رقم کی منظوری کی درخواست کی گئی ہے، تاکہ اُن ملکوں کی مدد کی جاسکے جنھیں مہاجرین کا مسئلہ شد و مد سے درپیش ہے۔

ساتھ ہی، افریقی ملکوں میں اعانتی کام کے لیے، بجٹ میں 7.1 ارب ڈالر مانگے گئے ہیں، جن کی مدد سے، ترجمان کے بقول، ’’ہم براعظم میں امن، بہتر عمل داری، صحت، معاشی افزائش کے لیے اعانت فراہم کرسکیں گے‘‘۔

بجٹ میں ایشیا پیسیفک خطے میں ’طویل مدتی حکمت عملی‘ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ کاری کی مد میں 1.5 ارب ڈالر طلب کیے گئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق، ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ کے سلسلے میں امریکی کاروبار کو بڑھاوا دینے کے لیے کھلی منڈیاں قائم کی جائیں گی۔ علاوہ ازیں، بحر الکاہل کے خطے میں سکیورٹی، خوش حالی اور انسانی حقوق کی صورت حال میں بہتری کے لیے کام کو فروغ دیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG