رسائی کے لنکس

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے میانمار کے ساتھ ’عوام کے عوام کے ساتھ رابطوں کی سطح پر ‘ قربت پیدا کرنے کی اس سے بڑھ کر کوئی مثال نہیں مل سکتی

امریکہ نے میانمار، جسے برما بھی کہا جاتا ہے، میں ’پیس کور‘ (امن جتھا) تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ کی طرف سے ایک مدت تک تنہائی کا شکار رہنے والے اِس جنوب مشرقی ایشیائی ملک کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کی یہ ایک تازہ ترین مثال ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے میانمار کے ساتھ ’عوام کے عوام کے ساتھ رابطوں کی سطح پر‘ قربت پیدا کرنے کی اس سے بڑھ کر کوئی مثال نہیں مل سکتی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پیس کور‘ کے پہلے رضاکار 2015ء کے اواخر تک میانمار پہنچ جائیں گے، اور تعیناتی کے مقام پر دو برس تک خدمات بجا لانے سے قبل، اُنھیں تین ماہ کی تربیت دی جائے گی۔


یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر براک اوباما میانمار کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں وہ علاقائی سربراہ اجلاس میں شرکت اور ملک کے رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔

اس دورے میں، مسٹر اوباما نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جمہوریت کے عبوری دور میں، میانمار سست روی کا شکار ہے، یا پھر جمہوری راہ سے ہٹتا جا رہا ہے۔

’پیس کور‘ کی بنیاد سنہ 1961 میں رکھی گئی تھی۔

اُس وقت سے اب تک، دنیا بھر میں تقریبا ً 220000رضاکار روانہ کیے گئے ہیں، تاکہ تعلیم، صحت اور زراعت کے میدانوں میں مدد فراہم کی جاسکے۔

امریکی اور دیگر عوام کے درمیان بہتر سمجھ بوجھ کو فروغ دینا، ادارے کے نصب العین کا ایک حصہ ہے۔

میانمار 141واں ملک ہوگا، جہاں ’پیس کور‘ کا پروگرام جاری ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ یہ اعلان ’امریکہ اور برما کے مابین ایک مضبوط ساجھے داری اور پائیدار تعلقات کا غماز ہے‘۔


XS
SM
MD
LG