رسائی کے لنکس

برما پر پابندیوں کا اصلاحات کے فروغ میں کردار


امریکی وزیر خارجہ نے جہموریت پسند رہنما آنگ سان سوچی سے ملاقات کی

امریکی وزیر خارجہ نے جہموریت پسند رہنما آنگ سان سوچی سے ملاقات کی

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ برما کے خلاف اقتصادی پابندیاں اس وقت تک نہیں اٹھائی جائیں گی جب تک برما کی حکومت کی بعض پالیسیاں تبدیل نہیں ہوتیں۔ تا ہم، تجزیہ کاروں میں یہ بحث جاری ہے کہ امریکہ کی تجارتی پابندیوں کے کیا اثرات ہوئے ہیں، اور سیاسی اصلاحات کے فروغ میں ان کا کردار کیا ہے ۔

گذشتہ دو عشروں سے امریکہ، برما میں اصلاحات کو فروغ دینے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ملک کے فوجی لیڈروں کو سزا دینے کی غرض سے، برما کے ساتھ تجارت پر پابندیاں بتدریج سخت کرتا رہا ہے۔ لیکن اب جمہوریت کی حامی لیڈر آنگ سان سوچی سیاست میں دوبارہ حصہ لینے کے لیے تیار ہو گئی ہیں اور برما کی نئی حکومت نے بعض اصلاحات بھی کی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ان حالات میں اقتصادی پابندیوں کا رول کیا ہونا چاہیئے ۔

لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پالیٹیکل سائنس میں برما کے ایک محقق مایونگ زرنی کہتے ہیں کہ ان پابندیوں کا ایک نتیجہ یہ ضرور نکلا ہے کہ امریکی کمپنیاں برما کی معیشت میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کر سکی ہیں۔’’امریکی سرمایہ کاروں نے جو جگہ خالی کی ہے، اسے چینیوں، جنوبی کوریائی ، یہاں تک جاپانیوں اور بھارتیوں نے پُر کر دیا ہے ۔ اقتصادی لحاظ سے، برما کے فوجی جنرلوں کے طرزِ عمل پر، پابندیوں کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے ۔‘‘

تقریباً پانچ عشروں کی فوجی حکومت کے بعد، برما کا شمار اس علاقے کے غریب ترین ملکوں میں ہوتا ہے ۔ یہ وہ ملک ہے جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، جن کی چین کو اور علاقے کے دوسرے ملکوں کو ضرورت ہے ۔

کنبرا، آسٹریلیا میں یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے تجزیہ کار کارلائل تھائر کہتے ہیں’’جب تک تمام ملک تعاون نہ کریں، پابندیاں مؤثر نہیں ہوتیں۔ ان سے بچنے کے طریقے نکال لیے جاتے ہیں۔ اور برما ایسا ملک ہے جس نے ایک عرصے سے خود کو باقی دنیا سے الگ تھلگ کر رکھا ہے۔ دنیا کے بارے میں اس کے لیڈروں کا جو نظریہ ہے، وہ واشنگٹن کے کہنے سے تبدیل نہیں ہو گا۔‘‘

مغربی ملکوں نے برما کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی ، لیکن ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشیئن نیشنز یا آسیان نے دوسرا راستہ اختیار کیا ۔ اس نے برما کے فوجی لیڈروں سے رابطہ قائم رکھا اور اس ملک کو 1997 میں آسیان کا رکن بننے کی اجازت دے دی ۔ گذشتہ مہینے، آسیان نے اس فیصلے کی منظوری دے دی کہ 2014 میں برما کو آسیان کا صدر بننے کی اجازت دے دی جائے۔ اس فیصلے سے پہلے، برما کی حکومت نے ، جس کی قیادت اب ایک ریٹائرڈ جنرل ، صدر تھیئن شیئن کے پاس ہے، بہت سی اصلاحات کی تھیں ۔

حالیہ مہینوں کے دوران، حکومت نے میڈیا پر پابندیاں نرم کر دی ہیں، مزدور یونینوں کی تشکیل کی اجازت اور احتجاج کرنے کے حق کے لیے قوانین منظور کیے ہیں، 200 سے زیادہ سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے، اور آنگ سان سوچی سے براہِ راست مذاکرات کیے ہیں ۔ تجزیہ کار کارلائل تھائر کہتے ہیں کہ مغربی ملکوں کی پابندیوں کے بر خلاف، آسیان میں برما کی شرکت سے اصلاحات کے عمل میں تیزی آئی ہے۔ ’’جب سال میں دو بار آسیان کے سربراہی اجلاس ہوتے ہیں، تو اسی زمانے میں دوسری سرگرمیاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔‘‘

اس سال کے شروع میں، یورپی یونین نے امریکہ سے مختلف موقف اختیار کرتے ہوئے ، برما کے خلاف بعض پابندیاں عارضی طور پر ہٹا دیں۔ مغربی ملکوں نے اب تک جو تعزیر ی اقدامات کیے ہیں، انہیں پہلی بار ختم کیا گیا ہے ۔ صدر اوباما نے کہا ہے کہ برما نے حال ہی میں جو اصلاحات کی ہیں، وہ روشنی کی کرن ہیں۔ لیکن ایسے آثار نظر نہیں آتے کہ امریکہ عنقریب پابندیاں ختم کرنے والا ہے ۔اوباما انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مزید سیاسی اور اقتصادی اصلاحات کی منتظر ہے ۔

تجزیہ کار مایونگ زرنی کہتے ہیں کہ ماضی میں انھوں نے پابندیاں اٹھانے پر زور دیا ہے کیوں کہ ان سے برما کے لوگوں کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن اب صورتِ حال بدل گئی ہے ۔ اب برما واشنگٹن سے رابطے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔’’اگر یہ پابندیاں نہ ہوتیں، تو اس حکومت نے اب تک جو اشارے دیے ہیں، یا جو نمائشی اقدامات کیے ہیں، وہ بھی نہ کیے ہوتے آنگ سان سوچی کو مذاکرات میں شامل کرنے کا تو کوئی امکان ہی نہیں تھا۔‘‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ برما کے واشنگٹن کے ساتھ رابطہ بڑھانے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ شمالی برما میں چھوٹی اور درمیانے سائز کی چینی کمپنیوں کا سیلاب امڈ آیا ہے اور چین نے برما میں سرمایہ کاری کے بہت سے منصوبے شروع کر دیےہیں۔ تجزیہ کار زرنی کہتے ہیں’’برما کی حکومت ملک میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اثر و رسوخ کا توڑ کرنا چاہتی ہے ۔ میرے خیال میں ان حالات میں اقتصادی پابندیوں اور امریکہ کے رول کی اہمیت میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔‘‘

زرنی کہتے ہیں کہ امریکہ کے لیے اپنی اس طاقت کے استعمال کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جب اس قسم کے مسائل جیسے برما کی فوج کی طرف سے نسلی اقلیتوں کے خلاف کارروائیاں زیرِ بحث آئیں، تو زیادہ سخت رویہ اختیار کیا جائے ۔ امریکہ کو برما کی حکومت سے یہ بھی کہنا چاہیئے کہ وہ یہ بات تسلیم کرے کہ وہ سیاسی بنیادوں پر لوگوں کو قید کرتی ہے اور انہیں اذیتیں دیتی ہے ۔

XS
SM
MD
LG